صحيح مسلم حدیث نمبر: 2202
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 950
Sahih Muslim 2202
کتاب #11: جنازے کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ، فَقَالَ: " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟، فَقَالَ: الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ "،
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے، انہوں نے معبدبن کعب بن مالک سے اور انہوں نے حضرت قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فرمایا: ”آرام پانے والا ہے یا اس سے آرام ملنے والا ہے۔“ انہوں (صحابہ) نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! آرام پانے والا یا جس سے آرام ملنے والا ہے سے کیا مراد ہے؟“ تو آپ نے فرمایا: ”بندہ مومن دنیا کی تکلیف سے آرام پاتا ہے اور فاجر بندے (کے مرنے) سے لوگ، شہر، درخت اور حیوانات آرام پاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2202]