صحيح مسلم حدیث نمبر: 2202
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 950.01
📖 صحيح مسلم باب:11 حدیث نمبر : 80
Sahih Muslim 2202
کتاب #11: جنازے کے احکام و مسائل
21: باب مَا جَاءَ فِي: «مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ»:
باب: آرام پانے والے اور جس سے آرام حاصل کیا گیا ان کا بیان۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ، فَقَالَ: " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟، فَقَالَ: الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ "،
امام مالک بن انس نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے ، انھوں نے معبد بن کعب بن مالک سے اور انھوں نے حضرت قتادہ بن ربعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فر ما یا : " آرام پانے والا ہے یا اس سے آرام ملنے والا ہے ۔ انھوں ( صحابہ ) نے پو چھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آرام پانے والا یا جس سے آرام ملنے والا ہے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فر ما یا : " بندہ مومن دنیا کی تکا لیف سے آرام پا تا ہے اور فاجر بندے ( کے مرنے ) سے لو گ شہر درخت اور حیوانات آرام پاتے ہیں ۔