صحيح مسلم حدیث نمبر: 2189
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 945
Sahih Muslim 2189
کتاب #11: جنازے کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، واللفظ لهارون، وحرملة، قَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ "، قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟، قَالَ: مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ، انْتَهَى حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ، وَزَادَ الْآخَرَانِ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَيْهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَلَمَّا بَلَغَهُ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَقَدْ ضَيَّعْنَا قَرَارِيطَ كَثِيرَةً،
ابوطاہر، حرملہ، یحییٰ اور ہارون بن سعید ایلی۔۔۔ اس روایت کے الفاظ ہارون اور حرملہ کے ہیں۔۔۔ میں سے ہارون نے کہا: ہمیں حدیث سنائی اور دوسرے دونوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے عبدالرحمن بن ہرمز اعرج نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے میں شریک رہا یہاں تک کہ نماز جنازہ ادا کر لی گئی تو اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو اس (جنازے) میں شریک رہا حتیٰ کہ اس کو دفن کر دیا گیا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔“ پوچھا گیا: دو قیراط سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بڑے پہاڑوں کے مانند۔“ ابوطاہر کی حدیث یہاں ختم ہو گئی۔ دوسرے دو اساتذہ نے اضافہ کیا: ابن شہاب نے کہا: سالم بن عبداللہ بن عمر نے کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز جنازہ پڑھ کر لوٹ آتے تھے، جب ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پہنچی تو انہوں نے کہا: یقیناً ہم نے بہت سے قیراطوں میں نقصان اٹھایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2189]