صحيح مسلم حدیث نمبر: 2140
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 926.1
Sahih Muslim 2140
کتاب #11: جنازے کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَى عَلَى امْرَأَةٍ تَبْكِي عَلَى صَبِيٍّ لَهَا، فَقَالَ لَهَا: " اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي "، فَقَالَتْ: وَمَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي، فَلَمَّا ذَهَبَ. قِيلَ لَهَا: إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ، فَأَتَتْ بَابَهُ فَلَمْ تَجِدْ عَلَى بَابِهِ بَوَّابِينَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَعْرِفْكَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ "، أَوَ قَالَ: " عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ ".
عثمان بن عمر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ثابت بنانی کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس آئے جو اپنے بچے (کی موت) پر رو رہی تھی تو آپ نے ان سے فرمایا: ”اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صبر کرو۔“ اس نے کہا: ”آپ کو میری مصیبت کی کیا پروا؟“ جب آپ چلے گئے تو اس کو بتایا گیا کہ وہ (تمہیں صبر کی تلقین کرنے والے) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ تو اس عورت پر موت جیسی کیفیت طاری ہو گئی، وہ آپ کے دروازے پر آئی تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر دربان نہ پایا۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے (اس وقت) آپ کو نہیں پہچانا تھا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(حقیقی) صبر پہلے صدمے یا صدمے کے آغاز ہی میں ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2140]