صحيح مسلم حدیث نمبر: 2134
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 922
📖 صحيح مسلم باب:11 حدیث نمبر : 12
Sahih Muslim 2134
کتاب #11: جنازے کے احکام و مسائل
6: باب الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ:
باب: میت پر رونے کا بیان۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ، لَأَبْكِيَنَّهُ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ، فَكُنْتُ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ، إِذْ أَقَبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الصَّعِيدِ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي، فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ " فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ، فَلَمْ أَبْكِ.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے ، میں نے ( دل میں ) کہا : پردیسی ، پردیس میں ( فوت ہوگیا ) میں اس پر ایسا روؤں گی کہ اس کا خوب چرچا ہوگا ، چنانچہ میں نے اس پر رونے کی تیاری کرلی کہ اچانک بالائی علاقے سے ایک عورت آئی ، وہ ( رونے میں ) میرا ساتھ دینا چاہتی تھی کہ اسے سامنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مل گئےتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " کیا تم شیطان کو اس گھر میں ( دوبارہ ) داخل کرنا چاہتی ہو ۔ جہاں سے اللہ نے اس کو نکال دیا ہے؟ " دوبار ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات کہے ) تو میں ر ونے سے رک گئی اور نہ روئی ۔