صحيح مسلم حدیث نمبر: 2130
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 920
Sahih Muslim 2130
کتاب #11: جنازے کے احکام و مسائل
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إسحاق الْفَزَارِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ، فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالَ: لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ "، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ ".
ابواسحاق فزاری نے خالد حذا سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے قبیصہ بن ذویب سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، اس وقت ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں تو آپ نے انہیں بند کر دیا، پھر فرمایا: ”جب روح قبض کی جاتی ہے تو نظر اس کا پیچھا کرتی ہے۔“ اس پر ان کے گھر کے کچھ لوگ چلا کر رونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے لیے بھلائی کے علاوہ اور کوئی دعا نہ کرو کیونکہ تم جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی مغفرت فرما، ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کے درجات بلند فرما اور اس کے پیچھے رہ جانے والوں میں تو اس کا جانشین بن اور اے جہانوں کے پالنے والے! ہمیں اور اس کو بخش دے، اس کے لیے اس کی قبر میں کشادگی عطا فرما اور اس کے لیے اس (قبر) میں روشنی کر دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2130]