📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم - حدیث نمبر 2126

Sahih Muslim Hadith 2126 (صَحِيحُ مُسْلِمٍ)
کتاب #11 📁 جنازے کے احکام و مسائل (كِتَاب الْجَنَائِزِ) ← 🏷️ باب: مصیبت کے وقت کیا کہنا چاہیئے؟
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 2126 🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 918 Sahih Muslim 2126
کتاب #11: جنازے کے احکام و مسائل
2: باب مَا يُقَالُ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ:
🏷️ باب: مصیبت کے وقت کیا کہنا چاہیئے؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جميعا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ ابْنِ سَفِينَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ، فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا ". قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا، فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ يَخْطُبُنِي لَهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ لِي بِنْتًا وَأَنَا غَيُورٌ، فَقَالَ: أَمَّا ابْنَتُهَا فَنَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُغْنِيَهَا عَنْهَا، وَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يَذْهَبَ بِالْغَيْرَةِ.
اسماعیل بن جعفر نے کہا: مجھے سعد بن سعید نے عمر بن کثیر بن افلح سے خبر دی، انہوں نے (عمر) ابن سفینہ سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی مسلمان نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ (وہی کچھ) کہے جس کا اللہ نے اسے حکم دیا ہے: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ’یقیناً ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘، ’اے اللہ! مجھے میری مصیبت پر اجر دے اور مجھے اس سے بہتر بدل عطا فرما‘ مگر اللہ تعالیٰ اسے اس (ضائع شدہ چیز) کا بہتر بدل عطا فرماتا ہے۔“ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: جب (میرے خاوند) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے (دل میں) کہا: کون سا مسلمان ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر (ہو سکتا) ہے! وہ پہلا گھرانہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی۔ پھر میں نے وہ (کلمات) کہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں اس کا بدل عطا فرما دیا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیتے ہوئے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بھیجا تو میں نے کہا: میری ایک بیٹی ہے اور میں بہت غیرت کرنے والی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی بیٹی کے بارے میں ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس کو اس (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے بے نیاز کر دے اور میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ (بے جا) غیرت کو (اس سے) ہٹا دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2126]
صحيح مسلم • حدیث #2126
2124 2125 2126 2127 2128

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2127 وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ...
ابواسامہ نے سعد بن سعید سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن کثیر بن افلح نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ابن سفینہ سے...
#2128 وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ ...
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں سعد بن سعید نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن کثیر نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ