صحيح مسلم حدیث نمبر: 2118
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 913.01
📖 صحيح مسلم باب:10 حدیث نمبر : 27
Sahih Muslim 2118
کتاب #10: سورج اور چاند گرہن کے احکام
5: باب ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلاَةِ الْكُسُوفِ: «الصَّلاَةَ جَامِعَةً»:
باب: نماز کسوف کے لئے «الصّلاةُ جَامِعَةٌ» کہہ کر پکارنا چاہیئے۔
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " بَيْنَمَا أَنَا أَرْمِي بِأَسْهُمِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَنَبَذْتُهُنَّ، وَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى مَا يَحْدُثُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي انْكِسَافِ الشَّمْسِ الْيَوْمَ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ وَيَحْمَدُ وَيُهَلِّلُ، حَتَّى جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ سُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ".
بشر بن مفضل نے کہا : جریری نے ہمیں ابو علاء حیان بن عمیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اپنے تیروں کے زریعے سے تیر انداز کررہا تھا کے سورج کو گرہن لگ گیا ، تو نے ان کو پھینکا اور ( دل میں ) کہا کہ میں آج ہرصورت دیکھوں گا کہ سورج گرہن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا نئی کیفیت طاری ہوتی ہے ۔ میں آپ کے پاس پہنچا تو ( دیکھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے ، ( اللہ کو ) پکار رہے تھے ، اس کی بڑائی بیان کررہے تھے ، اس کی حمد و ثنا بیان کررہے تھے اور لاالٰہ الا اللہ کا ورد فرما رہے تھے ، یہاں تک کہ سورج سے گرہن ہٹا دیاگیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہررکعت میں ) دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعتیں ادا کیں ۔