صحيح مسلم حدیث نمبر: 2047
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 885
Sahih Muslim 2047
کتاب #8: نماز عیدین کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ابْنُ رافع ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ وَأَتَى النِّسَاءَ، فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِينَ النِّسَاءُ صَدَقَةً، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " زَكَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ؟ " قَالَ: " لَا وَلَكِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ بِهَا حِينَئِذٍ، تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ "، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " أَحَقًّا عَلَى الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ حِينَ يَفْرُغُ فَيُذَكِّرَهُنَّ؟ " قَالَ: " إِي لَعَمْرِي إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ، وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ ".
ابن جریج نے کہا: ہمیں عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہا: میں نے ان (جابر رضی اللہ عنہما) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے پھر نماز پڑھائی چنانچہ آپ نے خطبے سے پہلے نماز سے ابتدا کی پھر لوگوں کو خطاب فرمایا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ سے) فارغ ہوئے تو (چبوترے سے) اتر کر عورتوں کے پاس آئے انہیں تذکیر و نصیحت کی جبکہ آپ بلال رضی اللہ عنہ کے بازو کا سہارا لیے ہوئے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے عورتیں اس میں صدقہ ڈال رہی تھیں۔ (ابن جریج نے کہا:) میں نے عطاء سے پوچھا فطر کے دن کا صدقہ (ڈال رہی تھیں؟) انہوں نے کہا: نہیں اس وقت (اپنا) صدقہ کر رہی تھیں (کوئی عورت چھلا ڈالتی تھی (اسی طرح یکے بعد دیگرے (ڈال رہی تھیں اور ڈال رہی تھیں))۔ میں نے عطاء سے پھر پوچھا: کیا اب بھی امام کے لیے لازم ہے کہ جب (مردوں کے خطبے سے) فارغ ہو تو عورتوں کو تلقین اور نصیحت کرے؟ انہوں نے کہا: ہاں مجھے اپنی زندگی کی قسم! یہ ان پر (عائد شدہ) حق ہے انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2047]