صحيح مسلم حدیث نمبر: 2009
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 869
📖 صحيح مسلم باب:7 حدیث نمبر : 59
Sahih Muslim 2009
کتاب #7: جمعہ کے احکام و مسائل
13: باب تَخْفِيفِ الصَّلاَةِ وَالْخُطْبَةِ:
باب: نماز اور خطبہ مختصر پڑھانے کا بیان۔
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو وَائِلٍ : خَطَبَنَا عَمَّارٌ فَأَوْجَزَ وَأَبْلَغَ، فَلَمَّا نَزَلَ، قُلْنَا: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ، فَلَوْ كُنْتَ تَنَفَّسْتَ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ، مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ، وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا ".
ابو وائل نے کہا : ہمارے سامنے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبہ دیا ۔ انتہائی مختصر اورانتہائی بلیغ ( بات کی ) جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے کہا : ابویقظان! آپ نے انتہائی پر تاثیر اور انتہائی مختصر خطبہ دیاہے ، کاش! آپ سانس کچھ لمبی کرلیتے ( زیادہ دیر بات کرلیتے ) انھوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : " انسان کی نماز کا طویل ہونا اوراس کے خطبے کاچھوٹا ہونا اس کی سمجھداری کی علامت ہے ، اس لئے نماز لمبی کرو اور خطبہ چھوٹا دو ، اوراس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی بیان جادو ( کی طرح ) ہوتا ہے ۔