صحيح مسلم حدیث نمبر: 1999
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 863.2
Sahih Muslim 1999
کتاب #7: جمعہ کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَدِمَتْ سُوَيْقَةٌ، قَالَ: فَخَرَجَ النَّاسُ إِلَيْهَا فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا أَنَا فِيهِمْ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ".
خالد طحان نے حصین سے روایت کی، انہوں نے سالم اور ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک چھوٹا سا بازار (سامان بیچنے والوں کا قافلہ) آ گیا تو لوگ اس کی طرف نکل گئے اور (صرف) بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا، میں بھی ان میں تھا، کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ”اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں“ آیت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1999]