صحيح مسلم حدیث نمبر: 1481
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 651
Sahih Muslim 1481
کتاب #5: مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدَ نَاسًا فِي بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، فَقَالَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْهَا، فَآمُرَ بِهِمْ، فَيُحَرِّقُوا عَلَيْهِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ بُيُوتَهُمْ، وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا لَشَهِدَهَا "، يَعْنِي صَلَاةَ الْعِشَاءِ.
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک نماز میں غیر حاضر پایا تو فرمایا: ”میں نے (یہاں تک) سوچا کہ کسی آدمی کو لوگوں کی امامت کرانے کا حکم دوں، پھر دوسری طرف سے ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز سے پیچھے رہتے ہیں اور ان کے بارے میں (اپنے کارندوں کو) حکم دوں کہ لکڑیوں کے گٹھوں سے آگ بھڑکا کر ان کے گھروں کو ان پر جلا دیں۔ ان میں سے اگر کسی کو یقین ہو کہ نماز میں حاضری سے اسے فربہ (گوشت سے بھری ہوئی) ہڈی ملے گی تو وہ اس میں ضرور حاضر ہو جائے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عشاء کی نماز سے تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1481]