صحيح مسلم حدیث نمبر: 148
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 32
📖 صحيح مسلم باب:1 حدیث نمبر : 55
Sahih Muslim 148
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
10: باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَى التَّوْحِيدِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَطْعًا
باب: موحد قطعی جنتی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، رَدِيفُهُ عَلَى الرَّحْلِ، قَالَ: يَا مُعَاذ، قَالَ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: يَا مُعَاذُ، قَالَ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: يَا مُعَاذُ، قَالَ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أُخْبِرُ بِهَا النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا؟ قَالَ: إِذًا يَتَّكِلُوا، فَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا.
قتادہ نے کہا : ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے ، جب وہ پالان پر آپ کے پیچھے سوار تھے ، فرمایا : ’’اے معاذ ! ‘ ‘ انہوں نےعرض کی : ’’میں بار بار حاضر ہوں اللہ کے رسول ! میرے نصیب روشن ہو گئے ۔ ‘ ‘ نبی ﷺپھر فرمایا : ’’اے معاذ! ‘ ‘ انہوں نے عرض کی : ’’میں بار بار حاضر ہوں اللہ کے رسول ! زہے نصیب ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے فرمایا : ’’ اے معاذ! ‘ ‘ انہوں نے عرض کی ، ’’ میں ہر بار حاضر ہوں اللہ کے رسول ! میری خوش بختی ۔ ‘ ‘ ( اس پر ) آپ نے فرمایا : ’’کوئی بندہ ایسا نہیں جو ( سچے دل سے ) شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور رسول ہیں مگر اللہ ایسے شخص کو دوزخ پر حرام کر دیتا ہے ۔ ‘ ‘ حضرت معاذ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ کر دوں تاکہ وہ سب خوش ہو جائیں ؟ آپ نے فرمایا : ’’پھر وہ اسی پر بھروسا کر کے بیٹھ جائیں گے ۔ ‘ ‘ چنانچہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے ( کتمان علم کے ) گناہ کے خوف سے اپنی موت کے وقت یہ بات بتائی ۔