صحيح مسلم حدیث نمبر: 1426
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 628
📖 صحيح مسلم باب:5 حدیث نمبر : 260
Sahih Muslim 1426
کتاب #5: مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
36: باب الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلاَةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلاَةُ الْعَصْرِ:
باب: اس بات کی دلیل کہ نماز وسطی سے مراد نماز عصر ہے۔
وحَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَامِيُّ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، أَوِ اصْفَرَّتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا، أَوَ قَالَ: حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا.
حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : مشرکوں نے ( جنگ میں مشغول رکھ کر ) رسو ل اللہ ﷺ کو عصر کی نمازسے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’انھوں نےہمیں درمیانی نماز ، عصر کی نماز سے مشغول رکھا ، اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں میں آگ بھر دے ۔ ‘ ‘ یا فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ۔ ‘ ‘ ( ملأ کی جگہ حشا کا لظف ارشاد فرمایا ، مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے ۔ ) فائدہ : نبی کریم ﷺ کی نظرمیں نماز عصرکی اہمیت کس قدر تھی ، ان احادیث سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ نیز یہ کہ آپ ﷺ نے طائف میں سنگ باری برداشت کی لیکن بد دعا نہ دی ، احد میں جسم مبارک زخمی ہوا ، دندان مبارک شہید ہوئے ، ستر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کیا جن میں آپ کے چچا سید الشہداء سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے لیکن بد دعا نہ دی ۔ جنگ خندق میں ناز عصرفوت ہو گئی تو کافروں کو بد دعا دی ۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ نفع و نقصان کا یہی معیار پیش نظر رکھے ۔