صحيح مسلم حدیث نمبر: 1246
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 560
Sahih Muslim 1246
کتاب #5: مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، قَالَ: تَحَدَّثْتُ أَنَا وَالْقَاسِمُ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدِيثًا، وَكَانَ الْقَاسِمُ رَجُلًا لَحَّانَةً، وَكَانَ لِأُمِّ وَلَدٍ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: مَا لَكَ، لَا تَحَدَّثُ كَمَا يَتَحَدَّثُ ابْنُ أَخِي هَذَا؟ أَمَا إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ، مِنْ أَيْنَ أُتِيتَ هَذَا، أَدَّبَتْهُ أُمُّهُ، وَأَنْتَ، أَدَّبَتْكَ أُمُّكَ؟ قالَ: فَغَضِبَ القَاسِمُ وأَضَبَّ عَلَيْهَا، فَلَمَّا رَأَى مَائِدَةَ عَائِشَةَ، قَدْ أُتِيَ بِهَا، قَامَ قَالَتْ: أَيْنَ؟ قَالَ: أُصَلِّي، قَالَتْ: اجْلِسْ؟ قَالَ: إِنِّي أُصَلِّي، قَالَتْ: اجْلِسْ غُدَرُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ، وَلَا هُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ"،
حاتم بن اسماعیل نے (ابوحزرہ) یعقوب بن مجاہد سے، انہوں نے ابن ابی عتیق (عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق) سے روایت کی، کہا: میں نے اور قاسم (بن محمد بن ابی بکر صدیق) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس (بیٹھے ہوئے) گفتگو کی۔ قاسم زبان کی شدید غلطیاں کرنے والے انسان تھے، وہ ایک کنیز کے بیٹے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: کیا بات ہے تم میرے اس بھتیجے کی طرح کیوں گفتگو نہیں کرتے؟ ہاں، میں جانتی ہوں (تم میں) یہ بات کہاں سے آئی ہے، اس کو اس کی ماں نے ادب (گفتگو کا طریقہ) سکھایا اور تمہیں تمہاری ماں نے سکھایا۔ اس پر قاسم ناراض ہو گئے اور ان کے خلاف دل میں غصہ کیا، پھر جب انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا دسترخوان آتے دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کہاں جاتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں نماز پڑھنے لگا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹھ جاؤ۔ انہوں نے کہا: میں نے نماز پڑھنی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹھ جاؤ، دھوکے باز! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کھانا سامنے آ جائے تو نماز نہیں۔ اور نہ وہ (شخص نماز پڑھے) جس پر پیشاب، پاخانہ کی ضرورت غالب آ رہی ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1246]