كِتَاب الْبُيُوعِ
لین دین کے مسائل
کتاب #23 • کل احادیث: 161
|
1: باب إِبْطَالِ بَيْعِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ:
باب: بیع ملامسہ اور منابذہ باطل ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ ".
محمد بن یحییٰ بن حبان نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملامسہ اور منابذہ کی بیعوں سے منع فرمایا
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ابوزناد نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ،
حفص بن عاصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
|
|
|
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: " نُهِيَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ: الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، أَمَّا الْمُلَامَسَة، فَأَنْ يَلْمِسَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَوْبَ صَاحِبِهِ بِغَيْرِ تَأَمُّلٍ، وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَوْبَهُ إِلَى الْآخَرِ، وَلَمْ يَنْظُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا إِلَى ثَوْبِ صَاحِبِهِ ".
عمرو بن دینار نے عطاء بن میناء سے روایت کی کہ انہوں نے ان ( عطاء ) کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : دو قسم کی بیعوں ( یعنی ) ملامسہ اور منابذہ سے منع کیا گیا ہے ۔ ملامسہ یہ ہے کہ دونوں ( بیچنے والے اور خریدنے والے ) میں سے ہر ایک بغیر سوچے ( اور غور کیے ) اپنے ساتھی کے کپڑے کو چھوئے ، اور منابذہ یہ ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینکے اور کسی نے بھی اپنے ساتھی کے کپڑے کو ( جس کے ساتھ اس کے کپڑے کا تبادلہ ہو رہا ہے ) نہ دیکھا ہو ۔ ( اور اسی سے بیع کی تکمیل ہو جائے)
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أن أبا سعيد الخدري ، قَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ، وَلِبْسَتَيْنِ، نَهَى عَنْ: الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ فِي الْبَيْعِ "، وَالْمُلَامَسَةُ: لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الْآخَرِ بِيَدِهِ بِاللَّيْلِ، أَوْ بِالنَّهَارِ وَلَا يَقْلِبُهُ إِلَّا بِذَلِكَ، وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ بِثَوْبِهِ، وَيَنْبِذَ الْآخَرُ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ وَيَكُونُ ذَلِكَ بَيْعَهُمَا مِنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَلَا تَرَاضٍ.
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے بتایا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو قسم کی بیعوں اور دو قسم کے پہناووں سے منع فرمایا : بیع میں آپ نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ۔ ملامسہ یہ ہے کہ کوئی آدمی دوسرے کے کپڑے کو دن میں یا رات میں اپنے ہاتھ سے چھوئے اور اس کے علاوہ اسے الٹ کر بھی نہ دیکھے ۔ اور منابذہ یہ ہے کہ کوئی آدمی دوسرے آدمی کی طرف اپنا کپڑا پھینکے اور دوسرا اس کی طرف اپنا کپڑا پھینکے اور بغیر دیکھے اور ( بغیر حقیقی ) رضامندی کے یہی ان کی بیع ہو
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
صالح نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی
|
|
|
2: باب بُطْلاَنِ بَيْعِ الْحَصَاةِ وَالْبَيْعِ الَّذِي فِيهِ غَرَرٌ:
باب: کنکری کی بیع اور دھوکے کی بیع باطل ہے۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ، وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر پھینک کر بیع کرنے اور دھوکے والی بیع سے منع فرمایا ہے
|
|
|
3: باب تَحْرِيمِ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ:
باب: حبل الحبلہ کی بیع کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ ".
لیث نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے حبل الحبلہ کی بیع سے منع فرمایا ہے
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَايَعُونَ لَحْمَ الْجَزُورِ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ، وَحَبَلُ الْحَبَلَةِ: أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ، ثُمَّ تَحْمِلَ الَّتِي نُتِجَتْ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ".
عبیداللہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : اہل جاہلیت اونٹ کے گوشت کی حبل الحبلہ تک بیع کرتے تھے ۔ اور حبل الحبلہ یہ ہے کہ اونٹنی ( مادہ ) بچہ جنے ، پھر وہ بچہ جو پیدا ہوا ہے ، حاملہ ہو ( اس کی یا اس کے گوشت کی بیع ) تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرما دیا
|
|
|
4: باب تَحْرِيمِ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَسَوْمِهِ عَلَى سَوْمِهِ وَتَحْرِيمِ النَّجْشِ وَتَحْرِيمِ التَّصْرِيَةِ:
باب: اپنے بھائی کے نرخ پر نرخ نہ کرے، نہ اس کی بیع پر بیچے اور دھوکہ دینا اور تھن میں دودھ بھر رکھنا حرام ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ".
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ ".
عبیداللہ نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " کوئی آدمی اپنے ( مسلمان ) بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اپنے ( مسلمان ) بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام بھیجے ، الا یہ کہ وہ اسے اجازت دے
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَسُمْ الْمُسْلِمُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ".
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں علاء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عبدالرحمٰن ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی مسلمان کسی مسلمان کے سودے پر سودا بازی نہ کرے
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، وَسُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى أَنْ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ "، وَفِي رِوَايَةِ الدَّوْرَقِيِّ: عَلَى سِيمَةِ أَخِيهِ.
احمد بن ابراہیم دورقی نے مجھے یہی حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عبدالصمد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے علاء اور سہیل سے حدیث بیان کی ، ان دونوں نے اپنے اپنے والد ( عبدالرحمٰن بن یعقوب اور ابوصالح سمان ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز ہمیں محمد بن مثنیٰ نے یہی حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالصمد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز عبیداللہ بن معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی اپنے ( مسلمان ) بھائی کے کیے گئے سودے پر سودا کرے ، اور دَورقی کی روایت میں ( سوم اخيه کی بجائے ) سيمة اخيه ( چھوٹے سے سودے ) کے الفاظ ہیں
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ لِبَيْعٍ، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا، فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیع کے لیے قافلے کے ساتھ راستے میں ( جا کر ) ملاقات نہ کی جائے ، نہ تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع کرے ، نہ خریدنے کی نیت کے بغیر محض بھاؤ بڑھانے کے لیے قیمت لگاؤ ، نہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع کرے اور نہ تم اونٹنی اور بکری کا دودھ روکو ، جس نے انہیں اس کے بعد خرید لیا تو ان کا دودھ دوہنے کے بعد اسے دو باتوں کا اختیار ہے : اگر اسے وہ پسند ہے تو اسے رکھ لے اور اگر اسے ناپسند ہے تو ایک صاع کھجور کے ساتھ اسے واپس کر دے
|
|
|
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ التَّلَقِّي لِلرُّكْبَانِ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَأَنْ تَسْأَلَ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا، وَعَنِ النَّجْشِ وَالتَّصْرِيَةِ، وَأَنْ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ".
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تجارتی ) قافلوں کو آگے جا کر ( ان کے راستوں میں ) ملنے سے ، شہری کو کسی دیہاتی کے لیے بیع کرنے سے ، عورت کو اپنی ( مسلمان ) بہن کی طلاق کا مطالبہ کرنے سے ، محض بھاؤ چڑھانے کے لیے قیمت لگانے سے ، جانور کے تھنوں میں دودھ روکنے سے ، اور اپنے بھائی کے کیے گئے سودے پر سودا کرنے سے منع فرمایا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ . ح وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ غُنْدَرٍ، وَوَهْبٍ: نُهِيَ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ، عَنْ شُعْبَةَ.
غندر ، وہب بن جریر اور عبدالصمد بن عبدالوارث سب نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ شعبہ سے روایت کردہ معاذ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، غندر اور وہب کی حدیث میں ( مجہول کے صیغے کے ساتھ ) ہے : " منع کیا گیا ہے " اور عبدالصمد کی حدیث میں ( معروف کے صیغے کے ساتھ ) ہے : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ النَّجْشِ ".
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خریدنے کے ارادے کے بغیر ) بھاؤ چڑھانے کے لیے قیمت لگانے سے منع فرمایا
|
|
|
5: باب تَحْرِيمِ تَلَقِّي الْجَلَبِ:
باب: آگے بڑھ کر تاجروں سے ملنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى أَنْ تُتَلَقَّى السِّلَعُ حَتَّى تَبْلُغَ الْأَسْوَاقَ "، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ نُمَيْرٍ، وقَالَ الْآخَرَانِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ التَّلَقِّي ".
ابن ابی زائدہ ، یحییٰ بن سعید اور ( عبداللہ ) ابن نمیر ، ان سب نے عبیداللہ سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ بازار میں پہنچنے سے پہلے سامان حاصل کیا جائے ۔ یہ ابن نمیر کے الفاظ ہیں اور دوسرے دونوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سامانِ تجارت لانے والوں کو ) راستے میں جا کر ملنے سے منع فرمایا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، جَمِيعًا عَنْ ابْنِ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ.
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عبیداللہ سے ابن نمیر کی روایت کردہ حدیث کے مانند روایت کی
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ: " نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ ".
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( راستے میں ) جا کر سامان تجارت لینے سے منع فرمایا
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الْجَلَبُ ".
ہُشَیم نے ہمیں ہشام سے خبر دی ، انہوں نے ابن سیرین سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( راستے میں ) جا کر باہر سے لائے جانے والے سامان تجارت کو حاصل کرنے سے منع فرمایا
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي هِشَامٌ الْقُرْدُوسِيُّ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَلَقَّوْا الْجَلَبَ، فَمَنْ تَلَقَّاهُ، فَاشْتَرَى مِنْهُ، فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ ".
ابن جریج نے کہا : مجھے ہشام قردوسی نے ابن سیرین سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سامانِ تجارت کو راستے میں جا کر حاصل نہ کرو ۔ جس نے باہر مل کر ان سے سامان خرید لیا ، تو جب اس کا مالک بازار میں آئے گا تو اسے ( بیع کو برقرار رکھنے یا فسخ کرنے کا ) اختیار ہو گا
|
|
|
6: باب تَحْرِيمِ بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي:
باب: شہر والا باہر والے کا مال نہ بیچے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ". وقَالَ زُهَيْرٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ.
ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زُہَیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ اس ( سند ) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے ، آپ نے فرمایا : "" کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے ۔ "" زہیر نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے
|
|
|
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ". قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، قَالَ: لَا يَكُنْ لَهُ سِمْسَارًا.
طاوس کے بیٹے نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ باہر نکل کر قافلے والوں سے ملا جائے اور اس سے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے ۔ ( طاوس نے ) کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ کے فرمان : " کوئی شہری دیہاتی کی طرف سے ( بیع نہ کرے ) " کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے جواب دیا : وہ اس کا دلال نہ بنے
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقْ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ "، غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى: يُرْزَقُ.
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور احمد بن یونس نے کہا : ہمیں ابوخثیمہ زہیر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع نہ کرے ۔ لوگوں کو چھوڑ دو ، اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے سے رزق دیتا ہے ۔ " البتہ یحییٰ کی روایت میں ( مجہول کے صیغے کے ساتھ ) ہے : " رزق دیا جاتا ہے
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابوزہیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔ ( 3828 ) یونس نے ابن سیرین سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں منع کیا گیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے ، خواہ وہ اس کا بھائی ہو یا والد
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ أَوْ أَبَاهُ ".
یونس نے ابن سیرین سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں منع کیا گیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے ، خواہ وہ اس کا بھائی ہو یا والد
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " نُهِينَا عَنْ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ".
ابن عون نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمیں اس بات سے منع کیا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع کرے
|
|
|
7: باب حُكْمِ بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ:
باب: مصراۃ کی بیع کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً، فَلْيَنْقَلِبْ بِهَا فَلْيَحْلُبْهَا، فَإِنْ رَضِيَ حِلَابَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِلَّا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ ".
موسیٰ بن یسار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے دودھ روکی گئی بھیڑ ( یا بکری ) خرید لی تو وہ اسے لے کر گھر واپس آئے اور اس کا دودھ نکالے ، اگر وہ اس کے ددھ دینے سے راضی ہو تو اسے رکھ لے ، ورنہ کھجور کے ایک صاع سمیت اسے واپس کر دے
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ ابْتَاعَ شَاةً مُصَرَّاةً، فَهُوَ فِيهَا بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا، وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَرَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ".
سہیل کے والد ( ابوصالح ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے ایسی بھیڑ ( یا بکری ) خرید لی جس کا دودھ روکا گیا ہے تو اسے تین دن تک اس کے بارے میں اختیار ہے ، اگر چاہے تو رکھ لے اور چاہے تو واپس کر دے اور اس کے ساتھ کھجور کا ایک صاع بھی واپس کرے
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً، فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ لَا سَمْرَاءَ ".
قرہ نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے دودھ روکی ہوئی بھیڑ ( یا بکری ) خرید لی تو اسے تین دن تک اختیار ہے ۔ اگر وہ اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ غلے کا ایک صاع بھی واپس کرے ، گندم کا نہیں
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا، وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لَا سَمْرَاءَ ".
سفیان نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خرید لی ، اسے دو باتوں کا اختیار ہے ۔ اگر چاہے تو اسے رکھ لے اور اگر چاہے تو اسے واپس کر دے ، اور کھجور کا ایک صاع بھی واپس کر دے ، گندم کا نہیں
|
|
|
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: مَنِ اشْتَرَى مِنَ الْغَنَمِ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ.
عبدالوہاب نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، لیکن انہوں نے کہا : " جس نے ( دودھ روکی ہوئی ) کوئی بھیڑ یا بکری خریدی اسے اختیار ہے
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَا أَحَدُكُمُ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً، أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا إِمَّا هِيَ، وَإِلَّا فَلْيَرُدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، اس کے بعد انہوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ تھی : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی دودھ روکی گئی اونٹنی یا بھیڑ ( یا بکری ) خرید لے تو اسے اس کا دودھ نکالنے کے بعد دو باتوں کا اختیار ہے یا تو وہ ( جانور ) لے لے ورنہ کھجور کے ایک صاع سمیت اسے واپس کر دے
|
|
|
8: باب بُطْلاَنِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ:
باب: قبضہ سے پہلے خریدار کو دوسرے کے ہاتھ بیچنا درست نہیں ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَهُ.
حماد نے ہمیں عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے طاوس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس نے غلہ خریدا تو وہ اسے پورا کر لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرے ۔ "" حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ہر چیز کو اسی کے مانند خیال کرتا ہوں
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ الثَّوْرِيُّ ، كلاهما عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
سفیان بن عیینہ اور سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق روایت کی
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ.
معمر نے ابن طاوس سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے غلہ خریدا تو وہ اسے فروخت نہ کرے حتی کہ اسے اپنے قبضے میں لے لےحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ہر چیز کو غلے کی طرح سمجھتا ہوں
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحاَقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ "، فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ، فَقَالَ: أَلَا تُرَاهُمْ يَتَبَايَعُونَ بِالذَّهَبِ وَالطَّعَامُ مُرْجَأٌ، وَلَمْ يَقُلْ أَبُو كُرَيْبٍ: مُرْجَأٌ.
ابوبکر بن ابی شیبہ ، ابو کُرَیب اور اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ اسحاق نے کہا : ہمیں خبر دی اور دیگر نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ وکیع نے سفیان سے ، انہوں نے ابن طاوس سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو غلہ خریدے تو اسے آگے فروخت نہ کرے حتی کہ اسے ماپ ( کر قبضے میں لے ) لے
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ ".
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں مالک نے حدیث سنائی ۔ اور یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : میں نے مالک کے سامنے قراءت کی کہ نافع سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص غلہ خریدے تو پورا حاصل کرنے سے پہلے اسے فروخت نہ کرے
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَبْتَاعُ الطَّعَامَ، فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ ".
یحییٰ بن یحییٰ نے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم غلہ خریدا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر ایسے آدمی مقرر فرماتے جو ہمیں حکم دیتے کہ اسے فروخت کرنے سے پہلے اس جگہ سے جہاں ہم نے اسے خریدا تھا ، کسی دوسری جگہ منتقل کریں
|
|
|
حدیث #3842
📖 صحيح مسلم باب:21 حدیث نمبر : 42
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ: حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ "،
عبیداللہ نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص غلہ خریدے تو وہ اسے پورا کر لینے تک آگے فروخت نہ کرے
|
|
|
قَالَ: وَكُنَّا نَشْتَرِي الطَّعَامَ مِنَ الرُّكْبَانِ جِزَافًا، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى نَنْقُلَهُ مِنْ مَكَانِهِ.
نیز انہوں ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : ہم اہل قافلہ سے بغیر ماپ ( اور وزن ) کے غلہ خریدا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا کہ ہم اسے ، اس کی جگہ سے منتقل کرنے سے پلے ، آگے فروخت کریں
|
|
|
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ وَيَقْبِضَهُ ".
عمر بن محمد نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص غلہ خریدے تو اسے پورا کر لینے اور اپنے قبضے میں لینے سے پہلے فروخت نہ کرے
|
|
|
حدیث #3845
📖 صحيح مسلم باب:21 حدیث نمبر : 45
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وقَالَ عَلِيٌّ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ ".
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص غلہ خریدے تو اسے قبضے میں لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرے
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُمْ كَانُوا يُضْرَبُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا اشْتَرَوْا طَعَامًا جِزَافًا، أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِ حَتَّى يُحَوِّلُوهُ ".
معمر نے زہری سے ، انہوں نے سالم سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اگر وہ ( وزن اور ماپ کے بغیر ) اندازے سے ( ڈھیر کی صورت میں ) غلہ خریدتے اور اس کو منتقل کرنے سے پہلے اسی جگہ فروخت کرتے تو اس پر ان کو مار پڑتی تھی
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَال: " قَدْ رَأَيْتُ النَّاسَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ابْتَاعُوا الطَّعَامَ جِزَافًا، يُضْرَبُونَ فِي أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِمْ، وَذَلِكِ حَتَّى يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يَشْتَرِي الطَّعَامَ جِزَافًا، فَيَحْمِلُهُ إِلَى أَهْلِهِ.
یونس نے مجھے ابن شہاب ( زہری ) سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے سالم بن عبداللہ نے بتایا کہ ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کو دیکھا کہ جب وہ ( ناپ تول کے بغیر ) اندازے سے غلہ خریدتے تو اس بات پر انہیں مار پڑی تھی کہ وہ اس کو گھروں میں منتقل کرنے سے پہلے ، اسی جگہ اسے بیچیں ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد اندازے سے غلہ خریدتے ، پھر اسے اپنے گھر اٹھا لاتے
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ: مَنِ ابْتَاعَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ ، ابن نمیر اور ابو کریب نے کہا : ہمیں زید بن حباب نے ضحاک بن عثمان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے بُکَیر بن عبداللہ بن اشج سے ، انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جو شخص غلہ خریدے تو اسے ناپ کر لے لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرے ۔ "" ابوبکر کی روایت میں ( من الشترى کی بجائے ) من ابتاع کے الفاظ ہیں ( معنی ایک جیسے ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ: أَحْلَلْتَ بَيْعَ الرِّبَا، فَقَالَ مَرْوَانُ: مَا فَعَلْتُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَحْلَلْتَ بَيْعَ الصِّكَاكِ، " وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يُسْتَوْفَى "، قَالَ: فَخَطَبَ مَرْوَانُ النَّاسَ، فَنَهَى عَنْ بَيْعِهَا، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَنَظَرْتُ إِلَى حَرَسٍ يَأْخُذُونَهَا مِنْ أَيْدِي النَّاسِ.
عبداللہ بن حارث مخزومی نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ضحاک بن عثمان نے بکیر بن عبداللہ بن اشج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے مروان سے کہا : تم نے سودی تجارت حلال کر دی ہے؟ مروان نے جواب دیا : میں نے ایسا کیا کیا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم نے ادائیگی کی دستاویزات ( چیکوں ) کی بیع حلال قرار دی ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل قبضہ کرنے سے پہلے غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔ کہا : اس پر مروان نے لوگوں کو خطبہ دیا اور ان ( چیکوں ) کی بیع سے منع کر دیا ۔ سلیمان نے کہا : میں نے محافظوں کو دیکھا وہ انہیں لوگوں کے ہاتھوں سے واپس لے رہے تھے
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا ابْتَعْتَ طَعَامًا فَلَا تَبِعْهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَهُ ".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : " جب تم غلہ خریدو تو اسے پوری طرح قبضے میں لینے سے پہلے نہ بیچو
|
|
|
9: باب تَحْرِيمِ بَيْعِ صُبْرَةِ التَّمْرِ الْمَجْهُولَةِ الْقَدْرِ بِتَمْرٍ:
باب: کھجور کے ڈھیر کو جس کا وزن معلوم نہ ہو کھجور کے بدلے بیچنا درست نہیں ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ، لَا يُعْلَمُ مَكِيلَتُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ "،
روح بن عبادہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے ابوزبیر سے خبر دی ، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔ ۔ ۔ اسی ( مذکورہ بالا روایت ) کے مانند ، لیکن انہوں نے حدیث کے آخر میں من التمر کے الفاظ ذکر نہیں کیے
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ مِنَ التَّمْرِ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ.
روح بن عبادہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے ابوزبیر سے خبر دی ، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔ ۔ ۔ اسی ( مذکورہ بالا روایت ) کے مانند ، لیکن انہوں نے حدیث کے آخر میں من التمر کے الفاظ ذکر نہیں کیے
|
|
|
10: باب ثُبُوتِ خِيَارِ الْمَجْلِسِ لِلْمُتَبَايِعَيْنِ:
باب: بائع اور مشتری دونوں کو اختیار ہے جب تک اس مقام میں رہیں جہاں بیع ہوئی ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْبَيِّعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ "،
امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیع کرنے والے دونوں میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی کے خلاف ( بیع فسخ کرنے کا ) اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں ، الا یہ کہ اختیار والی بیع ہو
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، كِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ.
عبیداللہ ، ایوب ، یحییٰ بن سعید اور ضحاک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ، نافع سے امام مالک کی حدیث کی طرح روایت کی
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكِ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ ".
لیث نے ہمیں نافع سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جب دو آدمی باہم بیع کریں تو دونوں میں سے ہر ایک کو ( سودا ختم کرنے کا ) اختیار ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اور اکٹھے ہوں ۔ یا ان دونوں میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے ، اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے اور اسی پر دونوں بیع کر لیں تو بیع لازم ہو گئی ، اور اگر باہم بیع کرنے کے بعد دونوں جدا ہوئے اور ان میں سے کسی نے بیع کو ترک نہیں کیا تو بھی بیع لازم ہو گئی
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ نَافِعٌ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ بِالْبَيْعِ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ، فَإِذَا كَانَ بَيْعُهُمَا، عَنْ خِيَارٍ، فَقَدْ وَجَبَ "، زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ نَافِعٌ: كَانَ إِذَا بَايَعَ رَجُلًا فَأَرَادَ أَنْ لَا يُقِيلَهُ قَامَ، فَمَشَى هُنَيَّةً ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ.
زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر دونوں نے سفیان سے روایت کی ۔ زہیر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے نافع نے ( حدیث ) املا کرائی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب دو بیع کرنے والے باہم خرید و فروخت کریں تو ان میں سے ہر ایک کو اپنی بیع ( ختم کرنے ) کا اختیار ہے جب تک وہ باہم جدا نہ ہوں یا ان کی بیع اختیار سے ہوئی ہو ( انہوں نے اختیار استعمال کر لیا ہو ۔ ) اگر ان کی بیع اختیار سے ہوئی ہے تو لازم ہو گئی ہے ۔ "" ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ نافع نے کہا : جب وہ ( ابن عمر رضی اللہ عنہ ) کسی آدمی سے بیع کرتے اور چاہتے کہ وہ آدمی ان سے بیع کی واپسی کا مطالبہ ( اقالہ ) نہ کرے تو وہ ( خیارِ مجلس ختم کرنے کے لیے ) اٹھتے ، تھوڑا سا چلتے ، پھر اس کے پاس واپس آ جاتے
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعُ الْخِيَارِ ".
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو بیع کرنے والوں کے درمیان ( اس وقت تک ) بیع ( لازم ) نہیں ہوتی ، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں ، الا یہ کہ خیار ( اختیار ) والی بیع ہو ۔ " ( جس میں خیار کی مدت طے کر لی جائے یا اختیار استعمال کر کے بیع کو پکا کر لیا جائے)
|
|
|
11: باب الصِّدْقِ فِي الْبَيْعِ وَالْبَيَانِ:
باب: تجارت اور بیان میں راست بازی کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا ".
ابوخلیل نے عبداللہ بن حارث سے ، انہوں نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " بیع کرنے والے دونوں فریقوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں ۔ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور حقیقت کو واضح کریں تو ان کی بیع میں برکت ڈالی جاتی ہے ، اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور ( عیب وغیرہ ) چھپائیں تو ان کی بیع سے برکت مٹا دی جاتی ہے
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ ، يُحَدِّثُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، قَالَ مُسْلِم بْن الْحَجَّاج: وُلِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ، وَعَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً.
ابوتیاح سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن حارث سے سنا ، وہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔ امام مسلم بن حجاج رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 120 سال زندگی پائی
|
|
|
12: باب مَنْ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ:
باب: جو شخص بیع میں دھوکا کھائے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: ذَكَرَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَايَعْت فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ "، فَكَانَ إِذَا بَايَعَ، يَقُولُ: لَا خِيَابَةَ.
اسماعیل بن جعفر نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اسے بیع میں دھوکا دے دیا جاتا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم جس سے بھی بیع کرو تو کہہ دیا کرو : دھوکا نہیں ہو گا ۔ "" ( بعد ازیں ) وہ جب بھی بیع کرتا تو کہتا : دھوکا نہیں ہو گا
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا، فَكَانَ إِذَا بَايَعَ، يَقُولُ: لَا خِيَابَةَ.
سفیان اور شعبہ دونوں نے عبداللہ بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، لیکن ان دونوں کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں : وہ جب سودا کرتا تو کہتا تھا : دھوکا نہیں ہو گا
|
|
|
13: باب النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلاَحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ:
باب: میوہ جب تک اس کی صلاحیت کا یقین نہ ہو درخت پر بیچنا درست نہیں جب کاٹنے کی شرط نہ ہوئی ہو۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ ".
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت تک درختوں پر لگے ہوئے ) پھلوں کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ ان کی ( پکنے کی ) صلاحیت ظاہر ہو جائے ۔ آپ نے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو ( ایسی بیع سے ) منع فرمایا
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
|
|
|
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ، وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ، وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ ".
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ یا زرد ہو جائے اور کِھیل ( سٹہ ) ( کی بیع ) سے حتی کہ وہ ( دانے بھر کر ) سفید اور آفات سے محفوظ ہو جائے ۔ آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو منع فرمایا
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَتَذْهَبَ عَنْهُ الْآفَةُ "، قَالَ: " يَبْدُوَ صَلَاحُهُ حُمْرَتُهُ وَصُفْرَتُهُ ".
جریر نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پھل مت خریدو حتی کہ ان کی صلاحیت ظاہر ہو جائے اور اس سے آفت ( کا امکان ) ختم ہو جائے ۔ "" ( ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اس کی صلاحیت ( ظاہر ہونے ) سے اس کی سرخی اور زردی مراد ہے
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ يَحْيَي ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ،
عبدالوہاب نے یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ " حتیٰ کہ اس کی صلاحیت واضح ہو جائے " تک حدیث بیان کی ، اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَهَّابِ،
ابن ابی فُدیک نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ضحاک نے نافع سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عبدالوہاب کی حدیث کی طرح روایت کی
|
|
|
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ.
موسیٰ بن عقبہ نے مجھے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امام مالک اور عبیداللہ کی حدیث کے مانند روایت بیان کی
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ ".
اسماعیل بن جعفر نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم پھل نہ بیچو یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: مَا صَلَاحُهُ؟ قَالَ: تَذْهَبُ عَاهَتُهُ.
سفیان اور شعبہ دونوں نے عبداللہ بن دینار سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، شعبہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : اس کی صلاحیت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا : اس سے آفت ( بورگر جانے اور بیماری لگ جانے ) کا وقت ختم ہو جائے
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " نَهَى أَوْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ ".
ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت تک ) درخت پر لگے پھل کو بیچنے سے منع فرمایا ۔ ۔ یا کہا : ہمیں منع فرمایا ۔ ۔ یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہو جائے
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ . ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ: حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُول: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ ".
عمرو بن دینار نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت تک ) درخت پر لگے پھل کو بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ، فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْهُ، أَوْ يُؤْكَلَ، وَحَتَّى يُوزَنَ "، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا يُوزَنُ؟ فَقَالَ: رَجُلٌ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْزَرَ.
ابو بختری سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کھجور کی بیع کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ اس سے خود کھا سکے یا وہ کھائے جانے کے قابل ہو جائے ، اور یہاں تک کہ اس کا وزن کیا جا سکے ۔ میں نے کہا : اس کا وزن کیے جانے سے کیا مراد ہے؟ ان کے پاس موجود ایک شخص نے کہا : اس ( کے وزن ) کا اندازہ لگایا جا سکے
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبْتَاعُوا الثِّمَارَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( درختوں پر لگا ہوا ) پھل نہ خریدو یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے
|
|
|
14: باب تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلاَّ فِي الْعَرَايَا:
باب: تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا حرام ہے مگر عریہ میں درست ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ "،
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے خبر دی ، نیز ہمیں ابن نمیر اور زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ انہی دونوں کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی کہ ہمیں زہری نے سالم سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے ( پکنے کی ) صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلہے پھل کی بیع سے اور پھل کو خشک کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا
|
|
|
قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا "، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: أَنْ تُبَاعَ.
ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمیں زید بن ثابت نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا کی اجازت دی ۔ ابن نمیر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : ( اجازت دی ) کہ اسے بیچا ( یا خریدا ) جائے
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
ابن شہاب سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" پھل ( پکنے ) کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے مت خریدو اور نہ خشک کھجور کے عوض ( درخت پر لگا ) پھل خریدو ۔ "" ابن شہاب نے کہا : مجھے سالم بن عبداللہ بن عمرو نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، بالکل اسی کے مانند
|
|
|
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ "، وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يُبَاعَ ثَمَرُ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ، وَالْمُحَاقَلَةُ: أَنْ يُبَاعَ الزَّرْعُ بِالْقَمْحِ، وَاسْتِكْرَاءُ الْأَرْضِ بِالْقَمْحِ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ ". وقَالَ سَالِمٌ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ رَخَّصَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِالرُّطَبِ أَوْ بِالتَّمْرِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ ".
ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ کی بیع سے منع فرمایا ۔ مزابنہ یہ ہے کہ کھجور پر لگے پھل کو خشک کھجور کے عوض فروخت کیا جائے ، اور محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی کو ( کٹنے سے پہلے ) گندم کے عوض فروخت کیا جائے اور زمین کو گندم کے عوض کرائے پر دیا جائے ۔ ( ابن شہاب نے ) کہا : مجھے سالم بن عبداللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی کہ آپ نے فرمایا : "" صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے پھل نہ خریدو ، اور نہ ( درخت پر لگے ) پھل کو خشک کھجور کے عوض خریدو ۔ "" سالم نے کہا : مجھے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے اس ( ممانعت کے عام حکم ) کے بعد عَرِیہ کی بیع میں تروتازہ یا خشک کھجور کے عوض بیع کی رخصت دی ، اور اس کے سوا کسی بیع میں رخصت نہیں دی
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ ".
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ والے کو اجازت دی کہ وہ اسے ( اس پر موجود پھل کو ) مقدار کا اندازہ کرتے ہوئے خشک کھجور کے عوض بیچ لے
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يُحَدِّثُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، حَدَّثَهُ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ يَأْخُذُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا ".
سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی کہا : مجھے نافع نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کے بارے میں رخصت دی ( عریہ یہ ہے ) کہ گھر والے ( اپنی طرف سے دیے گئے درخت کے پھل کا ) خشک کھجور کے حوالے سے اندازہ لگا کر اسے لے لیں تاکہ وہ تازہ کھجور کھا سکیں
|
|
|
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
عبدالوہاب نے ہمیں کہا کہ میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے : مجھے نافع نے اسی سند سے اسی کے مانند خبر دی
|
|
|
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَالْعَرِيَّةُ: النَّخْلَةُ تُجْعَلُ لِلْقَوْمِ، فَيَبِيعُونَهَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا.
ہشیم نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ خبر دی ، البتہ انہوں نے کہا : عریہ سے وہ کھجور کا درخت مراد ہے جو لوگوں کو ( بطور عطیہ ) دیا جاتا ہے ۔ وہ ( درخت پر لگے پھل کو ) اندازے کے بقدر خشک کھجوروں کے عوض فروخت کر دیتے ہیں
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا ". قَالَ يَحْيَى: الْعَرِيَّةُ: أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ ثَمَرَ النَّخَلَاتِ لِطَعَامِ أَهْلِهِ رُطَبًا بِخَرْصِهَا تَمْرًا.
لیث نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کو ( اس سے حاصل ہونے والی ) خشک کھجور کی مقدار کے اندازے سے فروخت کرنے کی اجازت دی ۔ یحییٰ نے کہا : عریہ یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے گھر والوں کی خوراک کے لیے کھجور کا تازہ پھل ( اس سے حاصل ہونے والی ) خشک کھجور کے اندازے کے عوض خرید لے ۔ ( یہ تعریف تازہ پھل لینے والے کے نقطہ نظر سے ہے ۔ مفہوم ایک ہی ہے)
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلًا ".
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا میں رخصت دی کہ اس ( کے پھل ) کا اندازہ کرتے ہوئے اسے کھجور کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض فروخت کر دیا جائے
|
|
|
وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: أَنْ تُؤْخَذَ بِخَرْصِهَا،
یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث روایت کی ، اور ( فروخت کر دیا جائے کی بجائے ) " حاصل کر لیا جائے " کے الفاظ بیان کیے
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا.
ایوب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی بیع میں اس کے اندازے کی مقدار ( کے حساب سے لین دین ) کی اجازت دی
|
|
|
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ دَارِهِمْ مِنْهُمْ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، وَقَالَ: ذَلِكَ الرِّبَا، تِلْكَ الْمُزَابَنَةُ "، إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ النَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ، يَأْخُذُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا ".
سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے بُشیر بن یسار سے ، انہوں نے اپنے گھرانے سے تعلق رکھنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ سے ، جن میں سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں ، روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( درخت پر لگے ) پھل کو خشک کھجور کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا ۔ اور آپ نے فرمایا : " یہ سود ہے ، یہی ( بیع ) مزابنہ ( کھجور کے درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک کھجور کے عوض فروخت کرنا ) ہے ۔ " ہاں ، البتہ آپ نے عریہ کو بیچنے یا خریدنے کی اجازت دی ( عَرِیہ یہ ہے ) کہ کوئی خاندان ایک دو کھجور کے درخت ( جو بطور عطیہ دے گئے ) ان سے حاصل ہونے والی خشک کھجور کے اندازے کے مطابق لے لیں تاکہ وہ اس کا تازہ پھل کھائیں ( اور جنہیں درخت دیے گئے ہیں ، انہیں خشک کھجور دے دیں)
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُمْ قَالُوا: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا ".
لیث نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی ، انہوں نے بُشیر بن یسار سے اور انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ( بعض ) صحابہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کو ( اس سے حاصل ہونے ولی ) خشک کھجور کی مقدار کے اندازے سے فروخت کرنے کی اجازت دی
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنْ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ دَارِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى، غَيْرَ أَنَّ إِسْحَاقَ، وَابْنَ الْمُثَنَّى جَعَلَا مَكَانَ الرِّبَا: الزَّبْنَ، وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: الرِّبَا.
محمد بن مثنیٰ ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر سب نے ( عبدالوہاب ) ثقفی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے : مجھے بشیر بن یسار نے اپنے خاندان سے تعلق رکھنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔ آگے یحییٰ سے سلیمان بن بلال کی حدیث ( 3887 ) کے مانند حدیث ذکر کی ۔ لیکن اسحاق اور ابن مثنیٰ نے لفظ ربا کی بجائے لفظ زبن ( مزابنہ ) استعمال کیا ہے ، تاہم ابن ابی عمر نے رِبا ہی کہا
|
|
|
وحَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے بشیر بن یسار سے ، انہوں نے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ ۔ انہی ( سلیمان ، لیث اور ثقفی ) کی حدیث کے ہم معنی
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ ، حَدَّثَاهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا، فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ ".
ولید بن کثیر نے کہا : مجھے بنو حارثہ کے مولیٰ بشیر بن یسار نے حدیث بیان کی کہ رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ دونوں نے اسے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ ، یعنی تازہ کھجور کی خشک کھجور کے عوض بیع سے منع فرمایا ، سوائے عرایا والوں کے کیونکہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ : حَدَّثَكَ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، أَوْ فِي خَمْسَةِ "، يَشُكُّ دَاوُدُ، قَالَ: خَمْسَةٌ أَوْ دُونَ خَمْسَةٍ، قَالَ: نَعَمْ.
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک سے پوچھا : کیا آپ کو داود بن حصین نے ابن ابی احمد کے آزاد کردہ غلام ابوسفیان ( وہب ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کو پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک اندازے سے بیچنے کی رخصت دی ہے؟ ۔ ۔ ( امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : ) شک داود کو ہے کہ انہوں ( ابوسفیان ) نے پانچ وسق کہا یا پانچ وسق سے کم کہا ۔ ۔ تو انہوں ( امام مالک ) نے جواب دیا : ہاں
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ "، وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا ".
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ سے مراد ( کھجور کے تازہ ) پھل کو خشک کھجور کی ماپی ( یا تولی ہوئی ) مقدار کے عوض اور انگور کو منقیٰ کی ماپی ( یا تولی ہوئی ) مقدار کے عوض فروخت کرنا ہے
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا، وَبَيْعِ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ كَيْلًا ".
محمد بن بشیر نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) نے انہیں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ، اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے تازہ پھل کو خشک کھجور کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے اور انگور کو منقیٰ کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے اور ( خوشیوں میں ) گندم کی کھیتی کو ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابن ابی زائدہ نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی
|
|
|
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْعِنَبِ كَيْلًا، وَعَنْ كُلِّ ثَمَرٍ بِخَرْصِهِ ".
ابو اسامہ نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ۔ اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے ( تازہ ) پھل کو خشک کھجور کے ماپ کی مقررہ مقدار کے عوض اور انگور کو منقیٰ کے ماپ کی مقررہ مقدار کے عوض فروخت کیا جائے اور کسی بھی پھل کو اندازے کی بنیاد پر ( اسی طرح ) فروخت کرنے سے منع فرمایا
|
|
|
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ: الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِكَيْلٍ مُسَمَّى، إِنْ زَادَ فَلِي، وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ ".
اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور پر جو پھل لگا ہوا ہے اسے ماپ کی مقررہ مقدار کے ساتھ خشک کھجور کے عوض بیچا جائے کہ اگر بڑھ گیا تو میرا اور اگر کم ہو گیا تو اس کی ذمہ داری بھی مجھ پر ہو گی
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
حماد نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ، إِنْ كَانَتْ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا، وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا، وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ، نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ "، وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ: أَوْ كَانَ زَرْعًا.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رُمح نے لیث سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ( مزابنہ یہ ہے ) کہ کوئی آدمی اپنے باغ کا پھل اگر کھجور ہو تو خشک کھجور کے مقررہ ماپ کے عوض فروخت کرے اور اگر انگور ہو تو منقیٰ کے مقررہ ماپ کے عوض فروخت کرے اور اگر کھیتی ہو تو غلے کے مقررہ ماپ کے عوض اسے فروخت کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب ( سودوں ) سے منع فرمایا ۔ قتیبہ کی روایت میں ( وان كان زرعا "" اور اگر کھیتی ہو "" کے بجائے ) "" یا کھیتی ہو "" کے الفاظ ہیں ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنِي الضَّحَّاكُ . ح وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
یونس ، ضحاک اور موسیٰ بن عقبہ سب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ ان ( عبیداللہ ، ایوب اور لیث ) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی
|
|
|
15: باب مَنْ بَاعَ نَخْلاً عَلَيْهَا ثَمَرٌ:
باب: جو شخص کھجور کا درخت بیچے اور اس پر کھجور لگی ہو۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ، فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ".
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کھجور کا ایسا درخت فروخت کیا جس پر نر کھجور کا بورڈ ڈالا گیا ہو تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کا ہے الا یہ کہ خریدار ( بیع کے دوران میں ) شرط طے کر لے
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْر ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا نَخْلٍ اشْتُرِيَ أُصُولُهَا وَقَدْ أُبِّرَتْ، فَإِنَّ ثَمَرَهَا لِلَّذِي أَبَّرَهَا، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الَّذِي اشْتَرَاهَا ".
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کھجور کا جو درخت خریدا گیا اور اس کی تابیر کی گئی تھی تو اس کا پھل اسی کے لیے ہے جس نے تابیر کی ، مگر یہ کہ وہ آدمی جس نے اسے خریدا ( سودے میں اس کی ) شرط طے کر لے
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عن نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا امْرِئٍ أَبَّرَ نَخْلًا، ثُمَّ بَاعَ أَصْلَهَا، فَلِلَّذِي أَبَّرَ ثَمَرُ النَّخْلِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ".
لیث نے ہمیں نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کھجور کی تابیر ( نر کھجور کا بور ڈال کر اس کی پرداخت ) کی پھر اس کے درخت کو بیچ دیا ، تو کھجور کا پھل اسی کا ہے جس نے تابیر کی ، الا یہ کہ خریدنے والا شرط طے کر لے
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ایوب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنِ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ، فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا، فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ".
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے : " جس نے تابیر کیے جانے کے بعد کھجور کا درخت خریدا ، تو اس کا پھل اسی کا ہے جس نے اسے بیچا ، الا یہ کہ خریدار شرط طے کر لے اور جس نے غلام خریدا تو اسی کا مال اسی کا ہے جس نے اسے فروخت کیا ، الا یہ کہ خریدار شرط طے کر لے
|
|
|
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ.
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔ ۔ ۔ اسی کے مانند
|
|
|
16: باب النَّهْيِ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَعَنِ الْمُخَابَرَةِ وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلاَحِهَا وَعَنْ بَيْعِ الْمُعَاوَمَةِ وَهُوَ بَيْعُ السِّنِينَ:
باب: محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ کی ممانعت اور پھل کی بیع قبل صلاحیت کے اور معاومہ کا منع ہونا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم عَنْ: الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا يُبَاعُ إِلَّا بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ، إِلَّا الْعَرَايَا ".
سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقالہ ، مزابنہ ، مخابرہ اور ( پکنے کی ) صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا اور ( حکم دیا کہ ) عرایا ( کی بیع ) کے سوا ( پھل یا کھیتی کو ) صرف دینار اور درہم کے عوض ہی فروخت کیا جائے
|
|
|
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
ابوعاصم نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے عطاء اور ابوزبیر سے خبر دی ، ان دونوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔ ۔ ۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُطْعِمَ، وَلَا تُبَاعُ إِلَّا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ، إِلَّا الْعَرَايَا ". قَالَ عَطَاءٌ: فَسَّرَ لَنَا جَابِرٌ، قَالَ: أَمَّا الْمُخَابَرَةُ: فَالْأَرْضُ الْبَيْضَاءُ، يَدْفَعُهَا الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُل، فَيُنْفِقُ فِيهَا، ثُمَّ يَأْخُذُ مِنَ الثَّمَرِ، وَزَعَمَ أَنَّ الْمُزَابَنَةَ: بَيْعُ الرُّطَبِ فِي النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَالْمُحَاقَلَةُ فِي الزَّرْعِ: عَلَى نَحْوِ ذَلِكَ يَبِيعُ الزَّرْعَ الْقَائِمَ بِالْحَبِّ كَيْلًا.
مخلد بن یزید جزری نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ ، محاقلہ ، مزابنہ اور کھانے کے قابل ہونے سے پہلے پھلوں کی فروخت کرنے سے منع فرمایا اور ( حکم دیا کہ پھلوں اور اجناس کی ) صرف درہم و دینار ہی سے بیع کی جائے ، سوائے عرایا کے ۔ عطاء نے کہا : حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا : مخابرہ سے مراد وہ چٹیل زمین ہے جو ایک آدمی دوسرے کے حوالے کرے تو وہ اس میں خرچ کرے ، پھر وہ ( زمین دینے والا ) اس کی پیداوار میں سے حصہ لے ۔ اور ان کا خیال ہے کہ مزابنہ سے مراد کھجور پر لگی ہوئی تازہ کھجور کی خشک کھجور ( کی معینہ مقدار ) کے عوض بیع ہے اور محاقلہ یہ ہے کہ آدمی کھڑی فصل کو ماپے ہوئے غلے کے عوض بیچ دے
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، كِلَاهُمَا، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، قَالَ ابْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ جَالِسٌ عِنْدَ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَأَنْ تُشْتَرَى النَّخْلُ حَتَّى تُشْقِهَ "، وَالْإِشْقَاهُ: أَنْ يَحْمَرَّ، أَوْ يَصْفَرَّ، أَوْ يُؤْكَلَ مِنْهُ شَيْءٌ، وَالْمُحَاقَلَةُ: أَنْ يُبَاعَ الْحَقْلُ بِكَيْلٍ مِنَ الطَّعَامِ مَعْلُومٍ، وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يُبَاعَ النَّخْلُ بِأَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ، وَالْمُخَابَرَةُ: الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ، قَالَ زَيْدٌ: قُلْتُ لِعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ : أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَذْكُرُ هَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
زید بن ابی انیسہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہم سے ابوولید مکی نے حدیث بیان کی جبکہ وہ عطاء بن ابی رباح کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں ( زید ) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ ، مزابنہ ، مخابرہ اور اس بات سے منع فرمایا ہے کہ اِشقاہ سے پہلے ( درخت پر لگا ہوا ) کھجور ( کا پھل ) خریدا جائے ۔ اِشقاہ یہ ہے کہ اس میں سرخی یا زردی پیدا ہو جائے یا اس میں سے کچھ کھایا جا سکے 0سارا پھل بیک وقت نہیں بکتا ، کچھ کھانے کے قابل ہو جائے تو بیع جائز ہے ۔ ) اور محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی کی بیع غلے کی متعین مقدار ( صاع ، وسق وغیرہ یا وزن ) کے ساتھ کی جائے اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی کھجور کی بیع خشک کھجور کی ( ماپ یا تول کے ذریعے سے ) متعین مقدار کے ساتھ کی جائے اور مخابرہ یہ ہے کہ زمین کو ( جواز کی شروط پوری کیے بغیر ) تہائی ، چوتھائی یا اس طرح کے ( کسی متعین ) حصے کے عوض ( بٹائی پر ) دیا جائے ۔ زید نے کہا : میں نے ( ساتھ بیٹھے ) عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا : کیا آپ نے ( بھی ) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے جواب دیا : ہاں
|
|
|
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ: الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُشْقِحَ "، قَالَ: قُلْتُ لِسَعِيدٍ: مَا تُشْقِحُ؟ قَالَ: تَحْمَارُّ، وَتَصْفَارُّ، وَيُؤْكَلُ مِنْهَا.
سلیم بن حیان نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سعید بن میناء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ ، محاقلہ ، مخابرہ اور رنگ تبدیل ہونے ( اشقاح ) سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ۔ ( سلیم بن حیان نے ) کہا : میں نے سعید سے پوچھا : اشقاح سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا : ان میں سرخی اور زردی پیدا ہو جائے اور اس میں سے کھایا جا سکے
|
|
|
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ: الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُعَاوَمَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، قَالَ أَحَدُهُمَا: بَيْعُ السِّنِينَ هِيَ: الْمُعَاوَمَةُ، وَعَنِ الثُّنْيَا، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا ".
حماد بن زید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ایوب نے ابوزبیر اور سعید بن میناء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ ، مزابنہ ، معاومہ ، مخابرہ ۔ ۔ ان دونوں ( ابوزبیر اور سعید ) میں سے ایک نے کہا : کئی سالوں کے لیے بیع کرنا ہی معاومہ ہے ۔ اور استثاء والی بیر سے منع فرمایا اور عرایا ( کو خشک پھل کے عوض بیچنے ) کی اجازت دی
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْكُرُ بَيْعُ السِّنِينَ: هِيَ الْمُعَاوَمَةُ.
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ اسی کے مانند ، البتہ انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ کئی سالوں کے لیے بیع کرنا ہی معاومہ ہے
|
|
|
17: باب كِرَاءِ الأَرْضِ:
باب: زمین کو کرایہ پر دینے کا بیان۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، وَعَنْ بَيْعِهَا السِّنِينَ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ ".
رباح بن ابی معروف نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عطاء سے سنا ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو ( اس کی اپنی پیداوار کے بدلے کرائے پر دینے ، اس ( کے پھل ) کو کئی سالوں کے لیے بیچنے اور پکنے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ ".
حماد بن زید نے ہمیں مطروراق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا
|
|
|
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ لَقَبُهُ عَارِمٌ وَهُوَ أَبُو النُّعْمَانِ السَّدُوسِيُّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا، فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ ".
مہدی بن میمون نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں مطروراق نے عطاء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص کی زمین ہو تو ( بہتر ہے ) وہ اسے خود کاشت کرے ۔ اگر وہ خود کاشت نہ کرے تو اپنے بھائی کو کاشت کاری کے لیے دے دے
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ لِرِجَالٍ فُضُولُ أَرَضِينَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ، فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ أَبَى، فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ ".
اوزاعی نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کے پاس ضرورت سے زائد زمینیں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس ضرورت سے زائد زمین ہو وہ یا تو اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو عاریتا دے دے ۔ اگر وہ نہیں مانتا تو وہ اپنی زمین اپنے پاس رکھ لے ۔ " ( کسی غیر شرعی طریقے سے کرائے پر نہ دے)
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤْخَذَ لِلْأَرْضِ أَجْرٌ، أَوْ حَظٌّ ".
بکیر بن اخنس نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ زمین کی اجرت ( کرایہ ) یا ( اس کی ہونے والی پیداوار کا ) متعین ( مقدار میں ) حصہ لیا جائے
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا وَعَجَزَ عَنْهَا، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، وَلَا يُؤَاجِرْهَا إِيَّاهُ ".
عبدالملک نے ہمیں عطاء سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو ، وہ اسے خود کاشت کرے ، اگر وہ اس میں کاشتکاری کی استطاعت نہ پائے اور عاجز ہو تو ( بہتر ہے ) اپنے کسی مسلمان بھائی کو عاریتا دے دے اور اس کے ساتھ زمین کی اجرت کا معاملہ نہ کرے
|
|
|
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: سَأَلَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَطَاءً ، فَقَالَ: أَحَدَّثَكَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا يُكْرِهَا "، قَالَ: نَعَمْ.
ہمام نے حدیث بیان کی ، کہا : سلیمان بن موسیٰ نے عطاء سے سوال کیا اور کہا : کیا آپ کو حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو ( تو بہتر ہے ) وہ اسے کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشتکاری کے لیے دے دے اور اسے کرائے پر نہ دے؟ " انہوں نے جواب دیا : ہاں
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ ".
عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ ( غلط شرطوں کے ساتھ بٹائی پر دینے ) سے منع فرمایا
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ، فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا تَبِيعُوهَا "، فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ: مَا قَوْلُهُ: وَلَا تَبِيعُوهَا: يَعْنِي الْكِرَاء، قَالَ: نَعَمْ.
سعید بن میناء نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس فالتو زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشتکاری کے لیے دے دے اور اسے ( استفادے کے لیے ) فروخت نہ کرو ۔ " میں ( سلیم بن حیان ) نے سعید سے پوچھا : " اسے فروخت نہ کرو " سے کیا مراد ہے؟ کیا آپ کی مراد کرایہ پر دینے سے تھی؟ انہوں نے جواب دیا : ہاں
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُصِيبُ مِنَ الْقِصْرِيِّ، وَمِنْ كَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ فَلْيُحْرِثْهَا أَخَاهُ، وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا ".
زہیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین بٹائی پر دیتے اور ( باقی ساری پیداوار میں سے حصے کے علاوہ ) گاہے جانے کے بعد خوشوں میں بچ جانے والی گندم اور اس طرح کی چیزیں ( پانی کی گزرگاہوں کے ارد گرد ہونے والی پیداوار ) وصول کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو کاشت کاری کے لیے ( عاریتا ) دے دے ورنہ اسے ( خالی ) پڑا دہنے دے
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، جميعا عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ ابْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيّ ، حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُ الْأَرْضَ بِالثُّلُثِ، أَوِ الرُّبُعِ بِالْمَاذِيَانَاتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ لَمْ يَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَلْيُمْسِكْهَا ".
ہشام بن سعد نے مجھے حدیث بیان کی کہ انہیں ابوزبیر مکی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تہائی یا چوتھائی حصے کے عوض ، نالوں ( کے کناروں کی پیداوار ) کے عوض زمین لیتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے اور فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو تو ( بہتر ہے ) وہ اسے کاشت کرے ۔ " اگر وہ خود اسے کاشت نہیں کرتا تو اپنے بھائی کوعاریتا دے دے ، اگر وہ اسے اپنے بھائی کو بھی نہیں دیتا تو اس کو اپنے پاس رکھ لے
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، فَلْيَهَبْهَا أَوْ لِيُعِرْهَا ".
ابو عوانہ نے ہمیں سلیمان ( اعمش ) سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابوسفیان ( طلحہ بن نافع ) نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جس کے پاس زمین ہو تو ( بہتر ہے کہ ) وہ اسے ہبہ کرے یا عاریتا دے دے
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ فَلْيُزْرِعْهَا رَجُلًا.
عمار بن رُزَیق نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے کہا : " وہ اسے کاشت کرے یا کسی اور آدمی کو کاشت کاری کے لیے دے
|
|
|
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا ، حَدَّثَهُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَهُ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ ". قَالَ بُكَيْرٌ : وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: كُنَّا نُكْرِي أَرْضَنَا، ثُمَّ تَرَكْنَا ذَلِكَ حِينَ سَمِعْنَا حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ.
بکیر نے حدیث بیان کی کہ انہیں عبداللہ بن ابی سلمہ نے نعمان بن ابی عیاش سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو ( ممنوعہ طریقے سے ) کرائے پر دینے سے منع فرمایا ۔ بکیر نے کہا : مجھے نافع نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم اپنی زمینیں بٹائی پر دیتے تھے ، پھر جب ہم نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث سنی تو اسے ترک کر دیا
|
|
|
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالی زمین کی دو یا تین سالوں کے لیے بیع کرنے سے منع فرمایا
|
|
|
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ: عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ.
سعید بن منصور ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حمید اعرج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان بن عتیق سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کی بیع سے منع فرمایا ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے : پھلوں کی کئی سال کے لیے بیع سے ( منع فرمایا)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ أَبَى، فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کی زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو عاریتا دے دے ، اگر وہ نہیں مانتا تو اپنی زمین اپنے پاس رکھے ۔ " ( غلط طریقے سے بٹائی پر نہ دے)
|
|
|
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ نُعَيْمٍ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْهَى عَنْ: الْمُزَابَنَةِ، وَالْحُقُولِ "، فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: الْمُزَابَنَةُ: الثَّمَرُ بِالتَّمْرِ، وَالْحُقُولُ: كِرَاءُ الْأَرْضِ.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ مزابنہ اور حُقول سے منع فرما رہے تھے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : مزابنہ سے مراد ( کھجور پر لگے ) پھل کی خشک کھجور سے بیع ہے اور حقول سے مراد زمین کو ( اس کی پیداوار کے متعین حصے کے عوض ) بٹائی پر دینا ہے
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ: الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ: الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ "، وَالْمُزَابَنَةُ: اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ، وَالْمُحَاقَلَةُ: كِرَاءُ الْأَرْضِ.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ۔ مزابنہ درخت پر لگی کھجور کو ( خشک کھجور کے عوض ) خریدنا ہے اور محاقلہ سے مراد زمین کو کرائے پر دینا ہے
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حدثنا، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: " كُنَّا لَا نَرَى بِالْخِبْرِ بَأْسًا حَتَّى كَانَ عَامُ أَوَّلَ، فَزَعَمَ رَافِعٌ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ ".
حماد بن زید نے ہمیں عمرو ( بن دینار ) سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم مخابرہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے حتی کہ وہ پہلا سال آیا جس میں ( یزید کی امارت کے لیے بیعت لی گئی ) تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے خیال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ: فَتَرَكْنَاهُ مِنْ أَجْلِهِ.
سفیان ( بن عیینہ ) ، ایوب اور سفیان ( ثوری ) سب نے عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور ابن عیینہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : تو ہم نے ان ( رافع رضی اللہ عنہ ) کی وجہ سے ( احتیاطا ) اسے چھوڑ دیا
|
|
|
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " لَقَدْ مَنَعَنَا رَافِعٌ نَفْعَ أَرْضِنَا ".
مجاہد سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : رافع رضی اللہ عنہ نے ہماری زمین کا منافع ہم سے روک دیا
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ : " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي مَزَارِعَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي إِمَارَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ، حَتَّى بَلَغَهُ فِي آخِرِ خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يُحَدِّثُ فِيهَا بِنَهْيٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ "، فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدُ، وَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْهَا بَعْدُ قَالَ: زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا.
یزید بن زریع نے ہمیں ایوب سے خبر دی اور انہوں نے نافع سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اور حضرت ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دور امارت میں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی ایام تک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنی زمینوں کو بٹائی پر دیتے تھے حتی کہ حضرت معاویہ کی خلافت کے آخری ایام میں انہیں یہ بات پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت بیان کرتے ہیں ، چنانچہ وہ ان کے پاس گئے ، میں بھی ان کے ساتھ تھا ، انہوں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمینوں کو بٹائی پر دینے سے منع فرماتے تھے ۔ اس کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا ۔ بعد ازیں جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ کہتے : رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے
|
|
|
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ: فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَكَانَ لَا يُكْرِيهَا.
حماد بن زید اور اسماعیل ( ابن علیہ ) دونوں نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور ابن علیہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے ، کہا : اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا اور وہ اسے ( اپنی زمین کو ) کرائے پر نہیں دیتے تھے
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: ذَهَبْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، حَتَّى أَتَاهُ بِالْبَلَاطِ، فَأَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ ".
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی طرف گیا یہاں تک وہ ان کے پاس بَلاط کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے انہیں ( ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ) بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمینوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا تھا
|
|
|
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَتَى رَافِعًا ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حکم نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ۔ ۔ پھر ( ان کے حوالے سے ) یہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کی
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنِ بْنِ يَسَارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَأْجُرُ الْأَرْضَ، قَالَ: فَنُبِّئَ حَدِيثًا عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: فَانْطَلَقَ بِي مَعَهُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَذَكَرَ عَنْ بَعْضُ عُمُومَتِهِ ذَكَرَ فِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ "، قَالَ: فَتَرَكَهُ ابْنُ عُمَرَ، فَلَمْ يَأْجُرْهُ.
حسین بن حسن بن یسار نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن عون نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ زمین کو اجرت پر دیتے تھے ، کہا : انہیں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث بتائی گئی ، کہا : وہ میرے ساتھ ان کے ہاں گئے تو انہوں نے اپنے بعض چچاؤں سے بیان کیا ، انہوں نے اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۔ کہا : تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا اور زمین اجرت پر نہ دی
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَحَدَّثَهُ عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں ابن عون نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : انہوں نے اپنے بعض چچاؤں کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی
|
|
|
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يُكْرِي أَرَضِيهِ حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ خَدِيجٍ، مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ؟ قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، لِعَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ عَمَّيَّ ، وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا، يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى، ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ عَلِمَهُ، فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ.
سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنی زمینیں کرائے پر دیتے تھے حتی کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین کو کرائے پر دینے سے منع کرتے ہیں ، چنانچہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ملاقات کی اور کہا : ابن خدیج! آپ زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا بیان کرتے ہیں؟ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا : میں نے اپنے دو چچاؤں سے سنا اور وہ دونوں بدر میں شریک ہوئے تھے ، وہ اپنے گھرانے کے لوگوں کو حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بخوبی جانتا تھا کہ زمین کرائے پر دی جاتی تھی ۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو خوف ہوا کہ ( ممکن ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں کوئی نیا حکم جاری کیا ہو جس کا انہیں علم نہ ہوا ہو ، لہذا انہوں نے زمین کو کرائے پر دینا چھوڑ دیا
|
|
|
18: باب كِرَاءِ الأَرْضِ بِالطَّعَامِ:
باب: اناج کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کا بیان۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ، وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، فَجَاءَنَا ذَاتَ يَوْمٍ رَجُلٌ مَنْ عُمُومَتِي ، فَقَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، نَهَانَا أَنْ نُحَاقِلَ بِالْأَرْضِ، فَنُكْرِيَهَا عَلَى الثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ، وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا، أَوْ يُزْرِعَهَا، وَكَرِهَ كِرَاءَهَا وَمَا سِوَى ذَلِكَ ".
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے یعلیٰ بن حکیم سے ، انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم زمین کو اس کی پیداوار کے حصے پر دیتے تھے اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے اور ( اس کے ساتھ ) متعین مقدار میں غلے کے عوض کرائے پر دیتے ، ایک روز ہمارے پاس میرے چچاؤں میں سے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کیا ہے جو ہمارے لئے نفع مند تھا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نفع بخش ہے ، آپ نے ہمیں منع کیا ہے کہ ہم زمین کو بٹائی پر مدیں اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے اور متعین غلے کے عوض کرائے پر دیں ۔ اور آپ نے زمین کے مالک کو حکم دیا کہ وہ خود اس میں کاشت کرے یا کاشت کے لیے ( اپنے مسلمان بھائی کو ) دے دے اور آپ نے اس کے کرائے پر دینے اور اس کے سوا ( غلے کے ایک متعین حصے پر دینے ) کو ناپسند کیا ہے
|
|
|
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ، فَنُكْرِيهَا عَلَى الثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : یعلیٰ بن حکیم نے میری طرف لکھا ، انہوں نے کہا : میں نے سلیمان بن یسار سے سنا ، وہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے کہا : ہم زمین کو بٹائی پر دیتے اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے پر کرائے پر دیتے تھے ۔ ۔ ۔ آگے ابن علیہ کی ( سابقہ ) حدیث کے مانند بیان کیا
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، كُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
ابن ابی عروبہ نے یعلیٰ بن حکیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ: عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ.
جریر بن حازم نے یعلیٰ بن حکیم کی اسی سند کے ساتھ روایت کی ، انہوں نے ( سلیمان کے واسطے سے ) رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، انہوں نے ( اپنے چچاؤں میں سے ایک ) کے الفاظ نہیں کہے
|
|
|
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعٍ : أَنَّ ظُهَيْرَ بْنَ رَافِعٍ ، وَهُوَ عَمُّهُ، قَالَ: أَتَانِي ظُهَيْرٌ، فَقَالَ: لَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا، فَقُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ، قَالَ: سَأَلَنِي كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ؟ فَقُلْتُ: نُؤَاجِرُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى الرَّبِيعِ، أَوِ الْأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ، أَوِ الشَّعِيرِ، قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا، أَوْ أَزْرِعُوهَا، أَوْ أَمْسِكُوهَا ".
ابوعمرو اوزاعی نے مجھے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابونجاشی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ظُہیر بن رافع ان کے چچا تھے ، کہا : ظہیر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے کام سے منع فرمایا ہے جو ہمیں سہولت دینے والا تھا ۔ میں نے پوچھا : وہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا وہ برحق ہے ۔ کہا : آپ نے مجھ سے پوچھا : " تم اپنے کھیتوں کا کیا معاملہ کرتے ہو؟ " میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم انہیں چھوٹی نہر ( کے کناروں کی پیداوار ) پر یا کھجور یا جو کے ( متعینہ ) وسقوں پر اجرت پر دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " تو ایسا نہ کرو ، اسے خود کاشت کرو یا کاشت کے لیے کسی کو دے دو یا ویسے ہی اپنے ہاتھ میں رکھو
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، عَنْ رَافِعٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَلَمْ يَذْكُرْ عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرٍ.
عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے ، انہوں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی اور انہوں نے اپنے چچا ظہیر رضی اللہ عنہ سے روایت کا تذکرہ نہیں کیا
|
|
|
19: باب كِرَاءِ الأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ:
باب: سونے اور چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ : عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ "، قَالَ: فَقُلْتُ: أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟، فَقَالَ: أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَلَا بَأْسَ بِهِ.
امام مالک نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے اور انہوں نے حنظلہ بن قیس سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۔ کہا : میں نے پوچھا : کیا سونے اور چاندی کے عوض بھی؟ انہوں نے جواب دیا : البتہ سونے اور چاندی کے عوض دینے میں کوئی حرج نہیں
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ : عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ، إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، وَأَشْيَاءَ مِنَ الزَّرْعِ، فَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا، فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ، فَلَا بَأْسَ بِهِ ".
اوزاعی نے ہمیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حنظلہ بن قیس انصاری نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے اور چاندی ( دینار اور درہم ) کے عوض زمین کو بٹائی پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ( امر واقع یہ ہے کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں لوگ نہروں کی زمین ، چھوٹے نالوں کے کناروں کی زمین اور ( متعین مقدار میں ) فصل کی کچھ اشیاء کے عوض زمین اجرت پر دیتے تھے ۔ کبھی یہ ( حصہ ) تباہ ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ تباہ ہو جاتا ، لوگوں میں بٹائی ( کرائے پر دینے ) کی صرف یہی صورت تھی ، اسی لیے اس سے منع کیا گیا ، البتہ معلوم اور محفوظ چیز جس کی ادایگی کی ضمانت دی جا سکتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ: كُنَّا أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا، قَالَ: " كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَنَا هَذِهِ وَلَهُمْ هَذِهِ، فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ، وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، وَأَمَّا الْوَرِقُ، فَلَمْ يَنْهَنَا "،
سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حنظلہ زُرَقی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : انصار میں سب سے زیادہ ہمارے کھیت تھے ۔ کہا : ہم زمین کو اس شرط پر کرائے پر دیتے کہ یہ ( حصہ ) ہمارے لیے ہے اور وہ ( حصہ ) ان کے لیے ہے ، بسا اوقات اس حصے میں پیداوار ہوتی اور اس میں نہ ہوتی ، تو آپ نے ہمیں اس سے منع کر دیا ۔ البتہ آپ نے ہمیں چاندی کے عوض دینے سے منع نہیں کیا
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
حماد اور یزید بن ہارون نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی
|
|
|
20: باب فِي الْمُزَارَعَةِ وَالْمُؤَاجَرَةِ:
باب: مزارعت اور مؤاجرت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ : عَنِ الْمُزَارَعَةِ، فَقَالَ أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ: نَهَى عَنْهَا، وَقَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ مَعْقِلٍ: وَلَمْ يُسَمِّ عَبْدَ اللَّهِ.
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں عبدالواحد بن زیاد نے خبر دی ، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں علی بن مسہر نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( عبدالواحد اور علی ) نے ( سلیمان ) شیبانی سے اور انہوں نے عبداللہ بن سائب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن معقل سے مزارعت ( زمین کی پیداوار کی متعین مقدار پر بٹائی ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : مجھے حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا ۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے : آپ نے اس سے منع فرمایا ۔ اور انہوں نے کہا : میں نے ابن معقل سے پوچھا ۔ عبداللہ کا نام نہیں لیا
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، فَسَأَلْنَاهُ: عَنِ الْمُزَارَعَةِ، فَقَالَ: زَعَمَ ثَابِتٌ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ، وَأَمَرَ بِالْمُؤَاجَرَةِ "، وَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهَا.
ابوعوانہ نے ہمیں سلیمان شیبانی سے خبر دی ، انہوں نے عبداللہ بن سائب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم عبداللہ بن معقل کے پاس گئے ، ہم نے ان سے مزارعت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا اور مؤاجرت ( نقدی کے عوض کرائے پر دینے ) کا حکم دیا ہے اور فرمایا : " اس میں کوئی حرج نہیں
|
|
|
21: باب الأَرْضِ تُمْنَحُ:
باب: زمین ہبہ کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، أَنَّ مُجَاهِدًا، قَالَ لِطَاوُسٍ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَاسْمَعْ مِنْهُ الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَانْتَهَرَهُ، قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، مَا فَعَلْتُهُ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا ".
حماد بن زید نے ہمیں عمرو ( بن دینار ) سے خبر دی کہ مجاہد نے طاوس سے کہا : ہمارے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے پاس چلو اور ان سے ان کے والد کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ حدیث سنو ، کہا : انہوں ( طاوس ) نے انہیں ڈانٹا اور کہا : اللہ کی قسم : اگر مجھے علم ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے تو میں یہ کام ( کبھی ) نہ کرتا لیکن مجھے اس شخص نے حدیث بیان کی جو اسے ان سب سے زیادہ جاننے والا ہے ، ان کی مراد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو عاریتا دے ، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس پر متعین پیداوار وصول کرے ۔ " ( اس سے اللہ کی رضا بھی حاصل ہو گی اور جھگڑوں سے محفوظ بھی رہے گا)
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّهُ كَانَ يُخَابِرُ، قَالَ عَمْرٌو: فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: لَوْ تَرَكْتَ هَذِهِ الْمُخَابَرَةَ، فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ، فَقَالَ: أَيْ عَمْرُو، أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ بِذَلِكَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا، إِنَّمَا قَالَ: " يَمْنَحُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ، مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا "،
سفیان نے ہمیں عمرو اور ابن طاوس سے حدیث بیان کی اور انہوں نے طاوس سے روایت کی کہ وہ ( نقدی کے عوض ) بٹائی پر زمین دیتے تھے ۔ عمرو نے کہا : میں نے ان سے کہا : ابو عبدالرحمٰن! اگر آپ مخابرہ چھوڑ دیں ( تو بہتر ہے ) کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے ۔ انہوں نے کہا : عمرو! مجھے اس مسئلے کو ان سب کی نسبت زیادہ جاننے والے ، یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا ، آپ نے تو صرف فرمایا تھا : " تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو ( زمین ) عاریتا دے یہ اس کے لیے اس کی نسبت بہتر ہے کہ اس پر متعین پیداوار وصول کرے ۔ " ( بلا عوض دینے سے اسے غیر متعین ، وسیع منفعت حاصل ہو گی)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
ایوب ، سفیان ، ابن جریج اور شعبہ سب نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے طاوس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی حدیث کی طرح بیان کیا
|
|
|
وحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ عبدَ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ مَعْلُومٍ "، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ الْحَقْلُ، وَهُوَ بِلِسَانِ الْأَنْصَارِ: الْمُحَاقَلَةُ.
معمر نے ابن طاوس سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو دے یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس پر اتنا اتنا ، یعنی متعین مقدار میں وصول کرے ۔ "" کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : یہی حقل ہے اور انصار کی زبان میں محاقلہ ہے
|
|
|
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، فَإِنَّهُ أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ خَيْرٌ ".
عبدالملک بن زید نے طاوس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " جس کی زمین ہو ، وہ اگر اسے اپنے بھائی کو عاریتا دے دے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے
|
|