صحيح بخاري حدیث نمبر: 7455
Sahih al-Bukhari 7455
کتاب #98: کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں
28: بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ} :
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان (سورۃ والصافات میں) کہ ”ہم تو پہلے ہی اپنے بھیجے ہوئے بندوں کے باب میں یہ فرما چکے ہیں کہ ایک روز ان کی مدد ہو گی اور ہمارا ہی لشکر غالب ہو گا“۔
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَا جِبْرِيلُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا، فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا سورة مريم آية 64 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ: كَانَ هَذَا الْجَوَابَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن زر نے بیان کیا، کہا ہم نے اپنے والد ذر بن عبداللہ سے سنا، وہ سعید بن جبیر سے بیان کرتے تھے اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے جبرائیل! آپ کو ہمارے پاس اس سے زیادہ آنے میں کیا رکاوٹ ہے جتنا آپ آتے رہتے ہیں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وما نتنزل إلا بأمر ربك له ما بين أيدينا وما خلفنا» ”اور ہم نازل نہیں ہوتے لیکن آپ کے رب کے حکم سے، اسی کا ہے وہ سب کچھ جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے“ الآیہ۔ بیان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی جواب آیت میں اترا۔ [صحيح البخاري/حدیث: 7455]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Ibn `Abbas:
The Prophet (ﷺ) said, "O Gabriel, what prevents you. from visiting us more often than you do?" Then this Verse was revealed:--'And we angels descend not but by Command of your Lord. To Him belongs what is before us and what is behind us..' (19.64) So this was the answer to Muhammad.