📖 صحيح بخاري • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح بخاري - حدیث نمبر 6917

Sahih al-Bukhari Hadith 6917 (الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه)
کتاب #88 📁 کتاب: دیتوں کے بیان میں (كِتَاب الدِّيَاتِ) ← 🏷️ باب: جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے۔
عربی:
اردو:
صحيح بخاري حدیث نمبر: 6917 Sahih al-Bukhari 6917
کتاب #88: کتاب: دیتوں کے بیان میں
32: بَابُ إِذَا لَطَمَ الْمُسْلِمُ يَهُودِيًّا عِنْدَ الْغَضَبِ:
🏷️ باب: جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبيه، عَنْ أَبي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ مِنَ الَأنْصَارِ قَدْ لَطَمَ وَجْهِي، قَالَ: أَدْعُوهُ، فَدَعَوْهُ، قَالَ: لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ؟، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِالْيَهُودِ، فَسَمِعْتَهُ يَقُولُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ، قَالَ: قُلْتُ: وَعَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ، فَلَطَمْتُهُ، قَالَ: لَا تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الْأنْبِيَاءِ، فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ يَوْمَ القِيَامَةٍ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ".
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے انہوں نے اپنے والد (یحییٰ بن عمارہ) سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا یہود میں سے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کو کسی نے طمانچہ لگایا تھا۔ کہنے لگا: اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے اصحاب میں سے ایک انصاری شخص نے مجھ کو طمانچہ مارا۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا اس کو بلاؤ تو انہوں نے بلایا (وہ حاضر ہوا) آپ نے پوچھا تو نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا۔ وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! ایسا ہوا کہ میں یہودیوں کے پاس سے گزرا، میں نے سنا یہ یہودی یوں قسم کھا رہا تھا قسم اس پروردگار کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سارے آدمیوں میں سے چن لیا۔ میں نے کہا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں؟ اور اس وقت مجھے غصہ آ گیا۔ میں نے ایک طمانچہ لگا دیا (غصے میں یہ خطا مجھ سے ہو گئی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (دیکھو خیال رکھو) اور پیغمبروں پر مجھ کو فضیلت نہ دو قیامت کے دن ایسا ہو گا سب لوگ (ہیبت خداوندی سے) بیہوش ہو جائیں گے پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا۔ کیا دیکھوں گا موسیٰ علیہ السلام (مجھ سے بھی پہلے) عرش کا ایک کونہ تھامے کھڑے ہیں۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا کوہ طور پر جو (دنیا میں) بیہوش ہو چکے تھے اس کے بدل وہ آخرت میں بیہوش ہی نہ ہوں گے۔ [صحيح البخاري/حدیث: 6917]
صحيح بخاري • حدیث #6917
6916 6916 6917 6918 6918

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#6916 رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ اس کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/حدیث: Q6916]
#6916 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أ...
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے عمرو بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابو سعید ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ