صحيح بخاري حدیث نمبر: 6685
Sahih al-Bukhari 6685
کتاب #83: کتاب: قسموں اور نذروں کے بیان میں
21: بَابُ إِنْ حَلَفَ أَنْ لاَ يَشْرَبَ نَبِيذًا فَشَرِبَ طِلاَءً أَوْ سَكَرًا أَوْ عَصِيرًا، لَمْ يَحْنَثْ فِي قَوْلِ بَعْضِ النَّاسِ، وَلَيْسَتْ هَذِهِ بِأَنْبِذَةٍ عِنْدَهُ:
باب: اگر کسی نے قسم کھائی کہ نبیذ نہیں پئے گا پھر قسم کے بعد اس نے انگور کا پکا ہوا یا میٹھا پانی یا کوئی نشہ آور چیز یا انگور سے نچوڑا ہوا پانی پیا تو بعض لوگوں کے قول کے مطابق اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی، کیونکہ یہ چیزیں ان کے رائے میں نبیذ نہیں ہیں۔
حَدَّثَنِي عَلِيٌّ، سَمِعَ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَسَ، فَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُرْسِهِ، فَكَانَتِ الْعَرُوسُ خَادِمَهُمْ، فَقَالَ سَهْلٌ لِلْقَوْمِ: هَلْ تَدْرُونَ مَا سَقَتْهُ؟ قَالَ: " أَنْقَعَتْ لَهُ تَمْرًا فِي تَوْرٍ مِنَ اللَّيْلِ، حَتَّى أَصْبَحَ عَلَيْهِ، فَسَقَتْهُ إِيَّاهُ".
مجھ سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے عبدالعزیز بن ابی حازم سے سنا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی، انہیں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابواسید رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی کے موقع پر بلایا۔ دلہن ہی ان کی میزبانی کا کام کر رہی تھیں، پھر سہل رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا، تمہیں معلوم ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا۔ کہا کہ رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے میں نے کھجور ایک بڑے پیالہ میں بھگو دی تھی اور صبح کے وقت اس کا پانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلایا تھا۔ [صحيح البخاري/حدیث: 6685]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Abu Hazim:
Sahl bin Sa`d said, "Abu Usaid, the companion of the Prophet, got married, so he invited the Prophet (ﷺ) to his wedding party, and the bride herself served them. Sahl said to the People, 'Do you know what drink she served him with? She infused some dates in a pot at night and the next morning she served him with the infusion."