صحيح بخاري حدیث نمبر: 6511
Sahih al-Bukhari 6511
کتاب #81: کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
42: بَابُ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ:
باب: موت کی سختیوں کا بیان۔
حَدَّثَنِي صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَعْرَابِ جُفَاةً يَأْتُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَسْأَلُونَهُ مَتَى السَّاعَةُ؟ فَكَانَ يَنْظُرُ إِلَى أَصْغَرِهِمْ، فَيَقُولُ: " إِنْ يَعِشْ هَذَا لَا يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ"، قَالَ هِشَامٌ: يَعْنِي مَوْتَهُمْ.
مجھ سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ چند بدوی جو ننگے پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے اور آپ سے دریافت کرتے تھے کہ قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کم عمر والے کو دیکھ کر فرمانے لگے کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے سے پہلے تم پر تمہاری قیامت آ جائے گی۔ ہشام نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد (قیامت سے) ان کی موت تھی۔ [صحيح البخاري/حدیث: 6511]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated `Aisha:
Some rough bedouins used to visit the Prophet (ﷺ) and ask him, "When will the Hour be?" He would look at the youngest of all of them and say, "If this should live till he is very old, your Hour (the death of the people addressed) will take place." Hisham said that he meant (by the Hour), their death.