صحيح بخاري حدیث نمبر: 6274
Sahih al-Bukhari 6274
کتاب #79: کتاب: اجازت لینے کے بیان میں
35: بَابُ مَنِ اتَّكَأَ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ:
باب: اپنے ساتھیوں کے سامنے ٹیک لگا کر بیٹھنا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، مِثْلَهُ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ: " أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ"، فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا: لَيْتَهُ سَكَتَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے اسی طرح مثال بیان کیا، (اور یہ بھی بیان کیا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا ”ہاں اور جھوٹی بات بھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اتنی مرتبہ باربار دہراتے رہے کہ ہم نے کہا، کاش آپ خاموش ہو جاتے۔ [صحيح البخاري/حدیث: 6274]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Bishr:
as above (No. 290) adding: The Prophet (ﷺ) was reclining (leaning) and then he sat up saying, "And I warn you against giving a false statement." And he kept on saying that warning so much so that we said, "Would that he had stopped."