صحيح بخاري حدیث نمبر: 6186
Sahih al-Bukhari 6186
کتاب #78: کتاب: اخلاق کے بیان میں
105: بَابُ أَحَبِّ الأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وقول الرجل لصاحبه يا بني:
باب: اللہ پاک کو کون سے نام زیادہ پسند ہیں اور کسی شخص کا کسی کو یوں کہنا بیٹا۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ، فَقُلْنَا: لَا نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلَا كَرَامَةَ، فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " سَمِّ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، ان سے ابن المنکدر نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں سے ایک صاحب کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ ہم نے ان سے کہا کہ ہم تم کو ابوالقاسم کہہ کر نہیں پکاریں گے (کیونکہ ابوالقاسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت تھی) اور نہ ہم تمہاری عزت کے لیے ایسا کریں گے۔ ان صاحب نے اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لے۔ [صحيح البخاري/حدیث: 6186]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Jabir:
A boy was born for a man among us, and the man named him Al-Qasim. We said to him, "We will not call you Abu-l-Qasim, nor will we respect you for that." The Prophet (ﷺ) was informed about that, and he said, "Name your son `Abdur-Rahman."