صحيح بخاري حدیث نمبر: 5661
Sahih al-Bukhari 5661
کتاب #75: کتاب: امراض اور ان کے علاج کے بیان میں
14: بَابُ مَا يُقَالُ لِلْمَرِيضِ وَمَا يُجِيبُ:
باب: عیادت کے وقت مریض سے کیا کہا جائے اور مریض کیا جواب دے۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَمَسِسْتُهُ، وَهُوَ يُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، فَقُلْتُ: إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا وَذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ، قَالَ: أَجَلْ، " وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى إِلَّا حَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ".
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آپ بیمار تھے حاضر ہوا۔ میں نے آپ کا جسم چھوا، آپ کو تیز بخار تھا۔ میں نے عرض کیا آپ کو تو بڑا تیز بخار ہے یہ اس لیے ہو گا کہ آپ کو دگنا ثواب ملے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور کسی مسلمان کو بھی جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ [صحيح البخاري/حدیث: 5661]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated `Abdullah:
I visited the Prophet (ﷺ) during his illness and touched him while he was having a fever. I said to him, "You have a high fever; is it because you will get a double reward?" He said, "Yes. No Muslim is afflicted with any harm, but that his sins will be annulled as the leave of a tree fall down."