صحيح بخاري حدیث نمبر: 5468
Sahih al-Bukhari 5468
کتاب #71: کتاب: عقیقہ کے مسائل کا بیان
1: بَابُ تَسْمِيَةِ الْمَوْلُودِ غَدَاةَ يُولَدُ، لِمَنْ لَمْ يَعُقَّ عَنْهُ، وَتَحْنِيكِهِ:
باب: اگر بچے کے عقیقہ کا ارادہ نہ ہو تو پیدائش کے دن ہی اس کا نام رکھنا اور اس کی تحنیک کرنا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ يُحَنِّكُهُ فَبَالَ عَلَيْهِ فَأَتْبَعَهُ الْمَاءَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نو مولود بچہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی تحنیک کر دیں اس بچہ نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، آپ نے اس پر پانی بہا دیا۔ [صحيح البخاري/حدیث: 5468]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated `Aisha:
A boy was brought to the Prophet (ﷺ) to do Tahnik for him, but the boy urinated on him, whereupon the Prophet had water poured on the place of urine.