صحيح بخاري حدیث نمبر: 5336
Sahih al-Bukhari 5336
کتاب #68: کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان
46: بَابُ تُحِدُّ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا:
باب: جس عورت کا شوہر مر جائے وہ چار مہینے دس دن تک سوگ منائے۔
قَالَتْ زَيْنَبُ وَسَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا أَفَتَكْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ» . مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ لاَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعَرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ» .
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہ کہتے سنا کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میری لڑکی کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے تو کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ نہیں، دو تین مرتبہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا) ہر مرتبہ یہ فرماتے تھے کہ نہیں! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ (شرعی عدت) چار مہینے اور دس دن ہی کی ہے۔ جاہلیت میں تو تمہیں سال بھر تک مینگنی پھینکنی پڑتی تھی (جب کہیں عدت سے باہر ہوتی تھی)۔ [صحيح البخاري/حدیث: 5336]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Zainab further said: "I heard my mother, Um Salama saying that a woman came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The husband of my daughter has died and she is suffering from an eye disease, can she apply kohl to her eye?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "No," twice or thrice. (Every time she repeated her question) he said, "No." Then Allah's Messenger (ﷺ) added, "It is just a matter of four months and ten days. In the Pre-Islamic Period of ignorance a widow among you should throw a globe of dung when one year has elapsed."