📖 صحيح بخاري • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح بخاري

Sahih al-Bukhari (صَحِيحُ الْبُخَارِيِّ)
📁 کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں (كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ) 🏷️ باب: باب: آیت کی تفسیر ”بیشک اللہ نے نبی پر مہاجرین و انصار پر رحمت فرمائی، وہ لوگ جنہوں نے نبی کا ساتھ تنگی کے وقت (جنگ تبوک) میں دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل پیدا ہو گیا تھا۔ پھر (اللہ نے) ان لوگوں پر رحمت کے ساتھ توجہ فرما دی، بیشک وہ ان کے حق میں بڑا ہی شفیق بڑا ہی رحم کرنے والا ہے“۔
ترجمہ (Language):
عربی:
اردو:
صحيح بخاري حدیث نمبر: 4676 Sahih al-Bukhari 4676
کتاب #65: کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
17: بَابُ قَوْلِهِ: {لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} :
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک اللہ نے نبی پر مہاجرین و انصار پر رحمت فرمائی، وہ لوگ جنہوں نے نبی کا ساتھ تنگی کے وقت (جنگ تبوک) میں دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل پیدا ہو گیا تھا۔ پھر (اللہ نے) ان لوگوں پر رحمت کے ساتھ توجہ فرما دی، بیشک وہ ان کے حق میں بڑا ہی شفیق بڑا ہی رحم کرنے والا ہے“۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ. ح قَالَ أَحْمَدُ: وَحَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فِي حَدِيثِهِ، وَعَلَى الثَّلاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا سورة التوبة آية 118، قَالَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ: إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي، أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ".
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی (دوسری سند) احمد بن صالح نے بیان کیا کہ ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو عبدالرحمٰن بن کعب نے خبر دی، کہا کہ مجھے عبداللہ بن کعب نے خبر دی کہ (ان کے والد) کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں یہی ان کو راستے میں ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک سے ان کے واقعہ کے سلسلے میں سنا جس کے بارے میں آیت «وعلى الثلاثة الذين خلفوا‏» نازل ہوئی تھی۔ آپ نے آخر میں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) عرض کیا تھا کہ اپنی توبہ کے قبول ہونے کی خوشی میں اپنا تمام مال اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں خیرات کرتا ہوں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اپنا کچھ تھوڑا مال اپنے پاس ہی رہنے دو۔ یہ تمہارے حق میں بھی بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/حدیث: 4676]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated `Abdullah bin Ka`b:

I heard Ka`b bin Malik talking about the Verse:-- 'And to the three (He also forgave) who remained behind.' (9.118) saying in the last portion of his talk, "(I said), 'As a part (sign) of my repentance, I would like to give up all my property in the cause of Allah and His Apostle,' The Prophet (ﷺ) said to me, 'Keep some of your wealth as it is good for you." (To the three (He also forgave) who remained behind till for them the earth, vast as it is, was straitened..." (9.118)

صحيح بخاري • حدیث #4676
4674 4675 4676 4677 4678
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ