صحيح بخاري حدیث نمبر: 4564
Sahih al-Bukhari 4564
کتاب #65: کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
13: بَابُ: {إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ} الآيَةَ:
باب: آیت کی تفسیر ”مسلمانوں سے کہا گیا کہ بیشک لوگوں نے تمہارے خلاف بہت سامان جنگ جمع کیا ہے، پس ان سے ڈرو تو مسلمانوں نے جواب میں حسبنا اللہ ونعم الوکیل کہا“۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ آخِرَ قَوْلِ إِبْرَاهِيمَ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ".
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابوحصین نے، ان سے ابوالضحیٰ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آخری کلمہ جو آپ کی زبان مبارک سے نکلا «حسبي الله ونعم الوكيل.» تھا یعنی میری مدد کے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کام بنانے والا ہے۔ [صحيح البخاري/حدیث: 4564]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Ibn `Abbas:
The last statement of Abraham when he was thrown into the fire was:--"Allah is Sufficient for us and He is the Best Disposer (of affairs for us)." (3.173)