Ibn `Abbas recited: "(Respite will be granted) until when the Apostles gave up hope (of their people) and thought that they were denied (by their people). There came to them Our Help ...." (12.110) reading Kudhibu without doubling the sound 'dh', and that was what he understood of the Verse. Then he went on reciting: "..even the Apostle and those who believed along with him said: When (will come) Allah's Help? Yes, verily, Allah's Help is near." (2.214) Then I met `Urwa bin Az-Zubair and I mentioned that to him. He said, "Aisha said, 'Allah forbid! By Allah, Allah never promised His Apostle anything but he knew that it would certainly happen before he died. But trials were continuously presented before the Apostles till they were afraid that their followers would accuse them of telling lies. So I used to recite:-- "Till they (come to) think that they were treated as liars." reading 'Kudh-dhibu with double 'dh.'
📖 صحيح بخاري • فہرست کتب (Book Index) ↗
صحيح بخاري
Sahih al-Bukhari (صَحِيحُ الْبُخَارِيِّ)
📁 کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
(كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ)
←
🏷️ باب: باب: آیت کی تفسیر ”کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تم کو ان لوگوں جیسے حالات پیش نہیں آئے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، انہیں تنگی اور سختی پیش آئی“ آخر آیت «قريب» تک۔
صحيح بخاري حدیث نمبر: 4524
Sahih al-Bukhari 4524
کتاب #65: کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
38: بَابُ: {أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ} إِلَى: {قَرِيبٌ} :
باب: آیت کی تفسیر ”کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تم کو ان لوگوں جیسے حالات پیش نہیں آئے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، انہیں تنگی اور سختی پیش آئی“ آخر آیت «قريب» تک۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا سورة يوسف آية 110 خَفِيفَةً ذَهَبَ بِهَا هُنَاكَ وَتَلَا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ سورة البقرة آية 214 فَلَقِيتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ , فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سورۃ یوسف کی آیت «حتى إذا استيأس الرسل وظنوا أنهم قد كذبوا» (میں «كذبوا» کو ذال کی) تخفیف کے ساتھ قرآت کیا کرتے تھے۔ آیت کا جو مفہوم وہ مراد لے سکتے تھے لیا، اس کے بعد یوں تلاوت کرتے «حتى يقول الرسول والذين آمنوا معه متى نصر الله ألا إن نصر الله قريب» پھر میری ملاقات عروہ بن زبیر سے ہوئی، تو میں نے ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کا ذکر کیا۔ [صحيح البخاري/حدیث: 4524]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Ibn Abu Mulaika:
📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث | / تلاش | r بے ترتیب حدیث | p پرنٹ