صحيح بخاري حدیث نمبر: 4468
Sahih al-Bukhari 4468
کتاب #64: کتاب: غزوات کے بیان میں
88: بَابُ بَعْثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو مرض الموت میں ایک مہم پر روانہ کرنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ , عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ، اسْتَعْمَل النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ , فَقَالُوا فِيهِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ قُلْتُمْ فِي أُسَامَةَ وَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ".
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ایک لشکر کا امیر بنایا تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اسامہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کر رہے ہو حالانکہ وہ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔ [صحيح البخاري/حدیث: 4468]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Salim's father:
The Prophet (ﷺ) appointed Usama as the commander of the troops (to be sent to Syria). The Muslims spoke about Usama (unfavorably ). The Prophet (ﷺ) said, " I have been informed that you spoke about Usama. (Let it be known that ) he is the most beloved of all people to me."