صحيح بخاري حدیث نمبر: 4386
Sahih al-Bukhari 4386
کتاب #64: کتاب: غزوات کے بیان میں
75: بَابُ قُدُومُ الأَشْعَرِيِّينَ وَأَهْلِ الْيَمَنِ:
باب: قبیلہ اشعر اور اہل یمن کی آمد کا بیان۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيُّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ: جَاءَتْ بَنُو تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ"، قَالُوا: أَمَّا إِذْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ"، قَالُوا: قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ.
مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا۔ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصخرہ جامع بن شداد نے بیان کیا، کہا ہم سے صفوان بن محرز مازنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنو تمیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو کچھ روپے بھی عنایت فرمائیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر یمن کے کچھ اشعری لوگ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت قبول نہیں کی، یمن والو! تم قبول کر لو۔ وہ بولے ہم نے قبول کی یا رسول اللہ۔ [صحيح البخاري/حدیث: 4386]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated `Imran bin Husain:
The people of Banu Tamim came to Allah's Messenger (ﷺ), and he said, "Be glad (i.e. have good tidings). O Banu Tamim!" They said, "As you have given us good tidings then give us (some material things)." On that the features of Allah's Messenger (ﷺ) changed (i.e. he took it ill). Then some people from Yemen came, and the Prophet (ﷺ) said (to them) "Accept good tidings as Banu Tamim have not accepted them." They said, "We accept them, O Allah's Messenger (ﷺ)!"