صحيح بخاري حدیث نمبر: 3234
Sahih al-Bukhari 3234
کتاب #59: کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی
7: بَابُ إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ. وَالْمَلاَئِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ:
باب: اس حدیث کے بیان میں کہ جب ایک تمہارا (جہری نماز میں سورۃ فاتحہ کے ختم پر باآواز بلند) آمین کہتا ہے تو فرشتے بھی آسمان پر (زور سے) آمین کہتے ہیں اور اس طرح دونوں کی زبان سے ایک ساتھ (با آواز بلند) آمین نکلتی ہے تو بندے کے گزرے ہوئے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ أَنْبَأَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ، وَلَكِنْ قَدْ رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ، وَخَلْقُهُ سَادٌّ مَا بَيْنَ الْأُفُقِ".
ہم سے محمد بن عبداللہ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے، کہا ہم کو قاسم نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جس نے یہ گمان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تھا تو اس نے بڑی جھوٹی بات زبان سے نکالی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو (معراج کی رات میں) ان کی اصل صورت میں دیکھا تھا۔ ان کے وجود نے آسمان کا کنارہ ڈھانپ لیا تھا۔ [صحيح البخاري/حدیث: 3234]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Aisha:
Whoever claimed that (the Prophet) Muhammad saw his Lord, is committing a great fault, for he only saw Gabriel in his genuine shape in which he was created covering the whole horizon.