صحيح بخاري حدیث نمبر: 2935
Sahih al-Bukhari 2935
کتاب #56: کتاب: جہاد کا بیان
98: بَابُ الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ بِالْهَزِيمَةِ وَالزَّلْزَلَةِ:
باب: مشرکین کے لیے شکست اور زلزلے کی بددعا کرنا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ الْيَهُودَ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ فَلَعَنْتُهُمْ، فَقَالَ: " مَا لَكِ"، قُلْتُ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا، قَالَ: " فَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ بعض یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا «السام عليك.» (تم پر موت آئے) میں نے ان پر لعنت بھیجی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہوئی؟“ میں نے کہا کیا انہوں نے ابھی جو کہا تھا آپ نے نہیں سنا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا اور تم نے نہیں سنا کہ میں نے اس کا کیا جواب دیا «وعليكم» یعنی تم پر بھی وہی آئے (یعنی میں نے کوئی برا لفظ زبان سے نہیں نکالا صرف ان کی بات ان ہی پر لوٹا دی)۔“ [صحيح البخاري/حدیث: 2935]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated `Aisha:
Once the Jews came to the Prophet (ﷺ) and said, "Death be upon you." So I cursed them. The Prophet (ﷺ) said, "What is the matter?" I said, "Have you not heard what they said?" The Prophet (ﷺ) said, "Have you not heard what I replied (to them)? (I said), ('The same is upon you.')"