صحيح بخاري حدیث نمبر: 2478
Sahih al-Bukhari 2478
کتاب #46: کتاب: ظلم اور مال غصب کرنے کے بیان میں
32: بَابُ هَلْ تُكْسَرُ الدِّنَانُ الَّتِي فِيهَا الْخَمْرُ أَوْ تُخَرَّقُ الزِّقَاقُ:
باب: کیا کوئی ایسا مٹکا توڑا جا سکتا ہے یا ایسی مشک پھاڑی جا سکتی ہے جس میں شراب موجود ہو؟
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ، وَجَعَلَ يَقُولُ: جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ سورة الإسراء آية 81" الْآيَةَ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا، ان سے ابومعمر نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (فتح مکہ دن جب) مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان بتوں پر مارنے لگے اور فرمانے لگے کہ «جاء الحق وزهق الباطل» ”حق آ گیا اور باطل مٹ گیا“۔ [صحيح البخاري/حدیث: 2478]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:
The Prophet (ﷺ) entered Mecca and (at that time) there were three hundred-and-sixty idols around the Ka`ba. He started stabbing the idols with a stick he had in his hand and reciting: "Truth (Islam) has come and Falsehood (disbelief) has vanished."