صحيح بخاري حدیث نمبر: 2377
Sahih al-Bukhari 2377
کتاب #42: کتاب: مساقات کے بیان میں
15: بَابُ كِتَابَةِ الْقَطَائِعِ:
باب: قطعات اراضی بطور جاگیر دے کر ان کو سند لکھ دینا۔
وَقَالَ اللَّيْثُ: عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، " دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمْ بِالْبَحْرَيْنِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ فَعَلْتَ فَاكْتُبْ لِإِخْوَانِنَا مِنْ قُرَيْشٍ بِمِثْلِهَا، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي".
اور لیث نے یحییٰ بن سعید سے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا کر بحرین میں انہیں قطعات اراضی بطور جاگیر دینے چاہے تو انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو ایسا کرنا ہی ہے تو ہمارے بھائی قریش (مہاجرین) کو بھی اسی طرح کی قطعات کی سند لکھ دیجئیے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اتنی زمین ہی نہ تھی اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”میرے بعد تم دیکھو گے کہ دوسرے لوگوں کو تم پر مقدم کیا جائے گا۔ تو اس وقت تم مجھ سے ملنے تک صبر کئے رہنا۔“ [صحيح البخاري/حدیث: 2377]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Anas (ra):
The Prophet (ﷺ) called the Ansar so as to grant them a portion of (the land of) Bahrain. They said, "O Allah's Messenger ! If you grant this to is, write a similar document on our Quraish (emigrant) brothers." But the Prophet (ﷺ) did not have enough grants and he said: "After me you will see the people giving preference (to others), so be patient till you meet me."