صحيح بخاري حدیث نمبر: 2342
Sahih al-Bukhari 2342
کتاب #41: کتاب: کھیتی باڑی اور بٹائی کا بیان
18: بَابُ مَا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاسِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا فِي الزِّرَاعَةِ وَالثَّمَرَةِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کھیتی باڑی میں ایک دوسرے کی مدد کس طرح کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: " ذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ، فَقَالَ: يُزْرِعُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ، وَلَكِنْ قَالَ: " أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ شَيْئًا مَعْلُومًا".
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے اس کا (یعنی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث کا) ذکر طاؤس سے کیا تو انہوں نے کہا کہ (بٹائی وغیرہ پر) کاشت کرا سکتا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا تھا۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ اپنے کسی بھائی کو زمین بخشش کے طور پر دے دینا اس سے بہتر ہے کہ اس پر کوئی محصول لے۔ (یہ اس صورت میں کہ زمیندار کے پاس فالتو زمین بیکار پڑی ہو)۔ [صحيح البخاري/حدیث: 2342]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated `Amr:
When I mentioned it (i.e. the narration of Rafi` 'bin Khadij: no. 532) to Tawus, he said, "It is permissible to rent the land for cultivation, for Ibn `Abbas said, 'The Prophet (ﷺ) did not forbid that, but said: One had better give the land to one's brother gratis rather than charge a certain amount for it.' "