'Umar (ra) sent him (i.e. Hamza) as a Sadaqa / Zakat collector. A man had committed illegal sexual intercourse with the slave girl of his wife. Hamza took (personal) sureties for the adulterer till they came to 'Umar. 'Umar had lashed the adulterer one hundred lashes. 'Umar confirmed their claim (that the adulterer had already been punished) and excused him because of being Ignorant. Jarir Al-Ash'ath said to Ibn Mas'ud regarding renegades (i.e., those who became infidels after embracing Islam), "Let them repent and take (personal) sureties for them." They repented and their relatives stood sureties for them. According to Hammad, if somebody stands surety for another person and that person dies, the person giving surety will be released from responsibility. According to Al-Hakam, his responsibilities continues.
📖 صحيح بخاري • فہرست کتب (Book Index) ↗
صحيح بخاري
Sahih al-Bukhari (صَحِيحُ الْبُخَارِيِّ)
📁 کتاب: کفالت کے مسائل کا بیان
(كِتَاب الْكَفَالَةِ)
←
🏷️ باب: باب: قرضوں وغیرہ کی حاضر ضمانت اور مالی ضمانت کے بیان میں۔
صحيح بخاري حدیث نمبر: 2290
Sahih al-Bukhari 2290
کتاب #39: کتاب: کفالت کے مسائل کا بیان
1: بَابُ الْكَفَالَةِ فِي الْقَرْضِ وَالدُّيُونِ بِالأَبْدَانِ وَغَيْرِهَا:
باب: قرضوں وغیرہ کی حاضر ضمانت اور مالی ضمانت کے بیان میں۔
وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بَعَثَهُ مُصَدِّقًا، فَوَقَعَ رَجُلٌ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَأَخَذَ حَمْزَةُ مِنَ الرَّجُلِ كَفِيلًا، حَتَّى قَدِمَ عَلَى عُمَرَ، وَكَانَ عُمَرُ قَدْ جَلَدَهُ مِائَةَ جَلْدَةٍ فَصَدَّقَهُمْ وَعَذَرَهُ بِالْجَهَالَةِ، وَقَالَ جَرِيرٌ، وَالْأَشْعَثُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي الْمُرْتَدِّينَ: اسْتَتِبْهُمْ وَكَفِّلْهُمْ، فَتَابُوا وَكَفَلَهُمْ عَشَائِرُهُمْ، وَقَالَ حَمَّادٌ: إِذَا تَكَفَّلَ بِنَفْسٍ فَمَاتَ، فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ، وَقَالَ الْحَكَمُ: يَضْمَنُ.
اور ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے محمد بن حمزہ بن عمرو الاسلمی نے اور ان سے ان کے والد (حمزہ) نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے عہد خلافت میں) انہیں زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ (جہاں وہ زکوٰۃ وصول کر رہے تھے وہاں کے) ایک شخص نے اپنی بیوی کی باندی سے ہمبستری کر لی۔ حمزہ نے اس کی ایک شخص سے پہلے ضمانت لی، یہاں تک کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو سو کوڑوں کی سزا دی تھی۔ اس آدمی نے جو جرم اس پر لگا تھا اس کو قبول کیا تھا لیکن جہالت کا عذر کیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو معذور رکھا تھا اور جریر اور اشعث نے عبداللہ بن مسعود سے مرتدوں کے بارے میں کہا کہ ان سے توبہ کرائیے اور ان کی ضمانت طلب کیجئے (کہ دوبارہ مرتد نہ ہوں گے) چنانچہ انہوں نے توبہ کر لی اور ضمانت خود انہیں کے قبیلہ والوں نے دے دی۔ حماد نے کہا جس کا حاضر ضامن ہو اگر وہ مر جائے تو ضامن پر کچھ تاوان نہ ہو گا۔ لیکن حکم نے کہا کہ ذمہ کا مال دینا پڑے گا۔ [صحيح البخاري/حدیث: 2290]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Muhammad bin 'Amr Al-Aslami that his father Hamza said:
📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث | / تلاش | r بے ترتیب حدیث | p پرنٹ