صحيح بخاري حدیث نمبر: 2261
Sahih al-Bukhari 2261
کتاب #37: کتاب: اجرت کے مسائل کا بیان
1: بَابُ اسْتِئْجَارِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ:
باب: کسی بھی نیک مرد کو مزدوری پر لگانا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ، فَقُلْتُ: مَا عَمِلْتُ، أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ، فَقَالَ: " لَنْ، أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے قرۃ بن خالد نے کہا کہ مجھ سے حمید بن ہلال نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ میرے ساتھ (میرے قبیلہ) اشعر کے دو مرد اور بھی تھے۔ میں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ دونوں صاحبان حاکم بننے کے طلب گار ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص حاکم بننے کا خود خواہشمند ہو، اسے ہم ہرگز حاکم نہیں بنائیں گے۔ (یہاں راوی کو شک ہے کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ «لن» یا لفظ «لا» استعمال فرمایا۔ [صحيح البخاري/حدیث: 2261]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Abu Musa:
I went to the Prophet (ﷺ) with two men from Ash`ari tribe. I said (to the Prophet), "I do not know that they want employment." The Prophet (ﷺ) said, "No, we do not appoint for our jobs anybody who demands it earnestly."