صحيح بخاري حدیث نمبر: 2172
Sahih al-Bukhari 2172
کتاب #34: کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
75: بَابُ بَيْعِ الزَّبِيبِ بِالزَّبِيبِ وَالطَّعَامِ بِالطَّعَامِ:
باب: منقی کو منقی کے بدل اور اناج کو اناج کے بدل بیچنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ"، قَالَ: وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الثَّمَرَ بِكَيْلٍ إِنْ زَادَ فَلِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ مزابنہ یہ ہے کہ کوئی شخص درخت پر کی کھجور سوکھی کھجور کے بدل ماپ تول کر بیچے۔ اور خریدار کہے اگر درخت کا پھل اس سوکھے پھل سے زیادہ نکلے تو وہ اس کا ہے اور کم نکلے تو وہ نقصان بھر دے گا۔ [صحيح البخاري/حدیث: 2172]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Ibn `Umar:
The Prophet (ﷺ) forbade Muzabana; and Muzabana is the selling of fresh fruit (without measuring it) for something by measure on the basis that if that thing turns to be more than the fruit, the increase would be for the seller of the fruit, and if it turns to be less, that would be of his lot. Narrated Ibn `Umar from Zaid bin Thabit that the Prophet (ﷺ) allowed the selling of the fruits on the trees after estimation (when they are ripe).