صحيح بخاري حدیث نمبر: 2005
Sahih al-Bukhari 2005
کتاب #30: کتاب: روزے کے مسائل کا بیان
69: بَابُ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ
باب: اس بارے میں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَعُدُّهُ الْيَهُودُ عِيدًا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَصُومُوهُ أَنْتُمْ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ابوعمیس نے، ان سے قیس بن مسلم نے، ان سے طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عاشوراء کے دن کو یہودی عید کا دن سمجھتے تھے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بھی اس دن روزہ رکھا کرو۔ [صحيح البخاري/حدیث: 2005]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Abu Musa:
The day of 'Ashura' was considered as `Id day by the Jews. So the Prophet (ﷺ) ordered, "I recommend you (Muslims) to fast on this day."