صحيح بخاري حدیث نمبر: 1697
Sahih al-Bukhari 1697
کتاب #25: کتاب: حج کے مسائل کا بیان
107: بَابُ فَتْلِ الْقَلاَئِدِ لِلْبُدْنِ وَالْبَقَرِ:
باب: گائے اونٹ وغیرہ قربانی کے جانوروں کے قلاوے بٹنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ، قَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے کہ مجھے نافع نے خبر دی انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہا میں نے کہا: یا رسول اللہ! اور لوگ تو حلال ہو گئے لیکن آپ حلال نہیں ہوئے، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بالوں کو جما لیا ہے اور اپنی ہدی کو قلادہ پہنا دیا ہے، اس لیے جب تک حج سے بھی حلال نہ ہو جاؤں میں (درمیان میں) حلال نہیں ہو سکتا، (گوند لگا کر سر کے بالوں کا جما لینا اس کو تلبید کہتے ہیں)۔ [صحيح البخاري/حدیث: 1697]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Hafsa:
I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What is wrong with the people, they have finished their Ihram but you have not?" He said, "I matted my hair and I have garlanded my Hadi, so I will not finish my Ihram till I finished my Hajj ."