I asked Ibn `Abbas about Hajj-at-Tamattu`. He ordered me to perform it. I asked him about the Hadi (sacrifice). He said, "You have to slaughter a camel, a cow or a sheep, or you may share the Hadi with the others." It seemed that some people disliked it (Hajj-at-Tamattu`). I slept and dreamt as if a person was announcing: "Hajj Mabrur and accepted Mut'ah (Hajj-at-Tamattu`)" I went to Ibn `Abbas and narrated it to him. He said, "Allah is Greater. (That was) the tradition of Abu Al-Qasim (i.e. Prophet). Narrated Shu`ba that the call in the dream was. "An accepted `Umra and Hajj-Mabrur. "
📖 صحيح بخاري • فہرست کتب (Book Index) ↗
صحيح بخاري
Sahih al-Bukhari (صَحِيحُ الْبُخَارِيِّ)
📁 کتاب: حج کے مسائل کا بیان
(كِتَاب الْحَجِّ)
←
🏷️ باب: باب: (سورۃ البقرہ کی اس آیت کی تفسیر میں) پس جو شخص تمتع کرے حج کے ساتھ عمرہ کا یعنی حج تمتع کر کے فائدہ اٹھائے تو اس پر ہے جو کچھ میسر ہو قربانی سے اور اگر کسی کو قربانی میسر نہ ہو تو تین دن کے روزے ایام حج میں اور سات دن کے روزے گھر واپس ہونے پر رکھے، یہ پورے دس دن (کے روزے) ہوئے، یہ آسانی ان لوگوں کے لیے ہے جن کے گھر والے مسجد کے پاس نہ رہتے ہوں۔
صحيح بخاري حدیث نمبر: 1688
Sahih al-Bukhari 1688
کتاب #25: کتاب: حج کے مسائل کا بیان
102: بَابُ: {فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} :
باب: (سورۃ البقرہ کی اس آیت کی تفسیر میں) پس جو شخص تمتع کرے حج کے ساتھ عمرہ کا یعنی حج تمتع کر کے فائدہ اٹھائے تو اس پر ہے جو کچھ میسر ہو قربانی سے اور اگر کسی کو قربانی میسر نہ ہو تو تین دن کے روزے ایام حج میں اور سات دن کے روزے گھر واپس ہونے پر رکھے، یہ پورے دس دن (کے روزے) ہوئے، یہ آسانی ان لوگوں کے لیے ہے جن کے گھر والے مسجد کے پاس نہ رہتے ہوں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: " سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْمُتْعَةِ، فَأَمَرَنِي بِهَا، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْهَدْيِ، فَقَالَ: فِيهَا جَزُورٌ أَوْ بَقَرَةٌ أَوْ شَاةٌ أَوْ شِرْكٌ فِي دَمٍ، قَالَ: وَكَأَنَّ نَاسًا كَرِهُوهَا فَنِمْتُ، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ إِنْسَانًا يُنَادِي حَجٌّ مَبْرُورٌ وَمُتْعَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ: وَقَالَ آدَمُ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَغُنْدَرٌ: عَنْ شُعْبَةَ، عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ".
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہیں نضر بن شمیل نے خبر دی، انہیں شعبہ نے خبر دی، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تمتع کے بارے میں پوچھا تو آپ نے مجھے اس کے کرنے کا حکم دیا، پھر میں نے قربانی کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تمتع میں ایک اونٹ، یا ایک گائے یا ایک بکری (کی قربانی واجب ہے) یا کسی قربانی (اونٹ، یا گائے بھینس کی) میں شریک ہو جائے، ابوجمرہ نے کہا کہ بعض لوگ تمتع کو ناپسندیدہ قرار دیتے تھے۔ پھر میں سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص پکار رہا ہے یہ حج مبرور ہے اور یہ مقبول تمتع ہے۔ اب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے خواب کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ اکبر! یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ کہا کہ وہب بن جریر اور غندر نے شعبہ کے حوالہ سے یوں نقل کیا ہے «عمرة متقبلة، وحج مبرور» (اس میں عمرہ کا ذکر پہلے ہے یعنی یہ عمرہ مقبول اور حج مبرور ہے)۔ [صحيح البخاري/حدیث: 1688]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Abu Jamra:
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث | / تلاش | r بے ترتیب حدیث | p پرنٹ