صحيح بخاري حدیث نمبر: 1668
Sahih al-Bukhari 1668
کتاب #25: کتاب: حج کے مسائل کا بیان
93: بَابُ النُّزُولِ بَيْنَ عَرَفَةَ وَجَمْعٍ:
باب: عرفات اور مزدلفہ کے درمیان اترنا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: " كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ، غَيْرَ أَنَّهُ يَمُرُّ بِالشِّعْبِ الَّذِي أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَدْخُلُ فَيَنْتَفِضُ وَيَتَوَضَّأُ وَلَا يُصَلِّي حَتَّى يُصَلِّيَ بِجَمْعٍ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جویریہ نے نافع سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزدلفہ میں آ کر نماز مغرب اور عشاء ملا کر ایک ساتھ پڑھتے، البتہ آپ اس گھاٹی میں بھی مڑتے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مڑے تھے۔ وہاں آپ قضائے حاجت کرتے پھر وضو کرتے لیکن نماز نہ پڑھتے، نماز آپ مزدلفہ میں آ کر پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/حدیث: 1668]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Nafi`:
`Abdullah bin `Umar used to offer the Maghrib and `Isha' prayers together at Jam' (Al-Muzdalifa). But he used to pass by that mountain pass where Allah's Messenger (ﷺ) went, and he would enter it and answer the call of nature and perform ablution, and would not offer any prayer till he had prayed at Jam.'