صحيح بخاري حدیث نمبر: 1125
Sahih al-Bukhari 1125
کتاب #19: کتاب: تہجد کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: " احْتَبَسَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ: أَبْطَأَ عَلَيْهِ شَيْطَانُهُ فَنَزَلَتْ: وَالضُّحَى {1} وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى {2} مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى {3} سورة الضحى آية 1-3".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں سفیان ثوری نے اسود بن قیس سے خبر دی، ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام (ایک مرتبہ چند دنوں تک) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (وحی لے کر) نہیں آئے تو قریش کی ایک عورت (ام جمیل ابولہب کی بیوی) نے کہا کہ اب اس کے شیطان نے اس کے پاس آنے سے دیر لگائی۔ اس پر یہ سورت اتری «والضحى * والليل إذا سجى * ما ودعك ربك وما قلى» ۔ [صحيح البخاري/حدیث: 1125]
English Translation • Dr. M. Muhsin Khan
Narrated Jundab bin `Abdullah:
Gabriel did not come to the Prophet (for some time) and so one of the Quraish women said, "His Satan has deserted him." So came the Divine Revelation: "By the forenoon And by the night When it is still! Your Lord (O Muhammad) has neither Forsaken you Nor hated you." (93.1-3)